Flying in winter still hazardous
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶
ہے کہ تم اپنی لکیر کو بڑا کر دو۔ اس کے بعد دوسرے کی لکیر اپنے آپ چھوٹی ہو جائے گی۔ ڈاکٹر عزیز احمد خاں صاحب ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے خاندان کے تمام لوگ اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔ اور اس کا کریڈٹ خود عزیز احمد خاں صاحب کو حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں عام طور پر لوگ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو کسی اچھے اسکول میں داخل کر دو اور مزید ضرورت ہو تو ان کے لیے ٹیُٹر مقرر کر دو۔ مگر بچوں کی صحیح تعلیم کے لیے ماں باپ کو ان کے ساتھ محنت کرنا بہت ضروری ہے۔
اس سلسلہ میں عزیز احمد خاں صاحب نے کامیاب تجربہ کیا ہے۔ وہ پانچ سال کی عمر سے بچوں پر محنت شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو گھر میں آسان انداز میں ضروری باتیں بتاتے ہیں۔ کہانیوں کے ذریعہ ان کے اندر اخلاقی احساس ابھارتے ہیں، وہ ماحول کی چیزوں کو بتا کر مختلف فنون سے انہیں آشنا کرتے ہیں۔ مثلاً سورج، چاند اور ستارے کے ذریعہ فلکیات، موٹر کی پلیٹ نمبروں کے ذریعہ ریاضی، عمارتوں کے ذریعہ انجینئرنگ، اشتہاری بورڈوں کے ذریعہ تجارت، ندی پہاڑ، جنگل کے ذریعہ جغرافیہ، کہانیوں کے ذریعہ تاریخ، وغیرہ۔ اس طرح وہ بچوں کو ہر روز کئی کئی گھنٹے پڑھاتے ہیں۔ اور تیار کر کے ان کو میٹرک کے امتحان میں بیٹھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد حسب استعداد آگے کی تعلیم میں بڑھاتے ہیں۔ ان کے گھر کے اکثر بچوں نے امتیاز کے ساتھ امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ یہی لڑکیاں آگے چل کر بچوں کی پہلی معلم بنتی ہیں، اُن پڑھ ماں کے بچہ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو اندھیری کوٹھری میں بند کر دیا جائے۔ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں ماں کے قریب پرورش پاتا ہے۔ اور ماں جب علم کے چراغ سے محروم ہو تو اس کے بچوں کو کس طرح علم کی روشنی ملے گی۔
وہ اکثر اپنے بچوں کو باہر لے جاتے ہیں۔ کہیں نظر آیا کہ مزدور لوگ دھوپ اور رٹی میں مشقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو بچوں سے کہا کہ دیکھو، انہوں نے پڑھا نہیں، اس لیے اب وہ مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔ کسی کو لڑتے ہوئے دیکھا تو بتایا کہ دیکھو، اس نے ظلم حاصل نہیں کیا۔ اس لیے اس کو زندگی کا طریقہ نہیں معلوم۔ اب وہ غیر ضروری طور پر لوگوں سے لڑ رہا ہے۔ بچہ کا گھر اس کی پہلی تعلیم گاہ ہے۔ گھر اگر تعلیم گاہ نہ بنے تو صرف باہر کا ادارہ اس کی تعلیم کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues