Al-Risala · January 1994 · page 11

تاخیر نہ کہ ناکامی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱

تاخیر نہ کہ ناکامی

شکست تاخیر ہے، مگر شکست ناکامی نہیں ــــــــ شکست کسی کے لئے ایک درمیانی وقفہ ہے، وہ اس کا آخری انجام نہیں۔ ایسی حالت میں شکست سے مایوس ہونے کی کیا ضرورت۔ زندگی کا سفر کبھی ہمواری کے ساتھ طے نہیں ہوتا۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ آنا لازمی ہے۔ مختلف اسباب سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی نقصان اٹھاتا ہے یا ہار جاتا ہے۔ مگر زندگی میں ہر نقصان یا ہار کی حیثیت وقتی واقعہ کی ہے۔ آپ ایسے واقعہ سے بددل نہ ہوں۔ اور اپنی کوشش جاری رکھیں ۔ آج نہیں تو کل آپ یقینی طور پر کامیاب ہو جائیں گے۔

نقصان صرف نقصان نہیں یا ہار نا صرف ہار نہیں۔ ان میں فائدہ کا پہلو بھی ہے۔ نقصان یا ہار کا واقعہ جب پیش آتا ہے تو اس سے آدمی کو بہت سے نئے تجربے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی صلاحیتیں از سر نو جاگ اٹھتی ہیں۔ اس طرح نئی چیز کو پانا ، کھوئی ہوئی چیز کی تلافی بن جاتا ہے۔ ابتداء میں جب کوئی شکست پیش آتی ہے تو فوری طور پر آدمی جھنجھلا اٹھتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے عمل کو جاری رکھے تو نئی کامیابیاں اس کو جلد ہی اتنی زیادہ خوشی اور اطمینان دے دیں گی کہ پچھلی بات اس کو یاد بھی نہیں رہے گی۔ فتح کی خوشی شکست کے سارے غم کو بہت جلد بھلا دے گی۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھے۔ وہ آج کے، بجائے کل پر اپنی نظریں جمائے رہے۔ جو شخص ایسا کرے گا، اس کے لئے وقتی ناخوش گواریوں کو جھیلنا آسان ہو جائے گا۔ آنے والی جیت کی خاطر وہ آج کی ہار کو بھول جائے گا۔ شام اس کے لئے شام نہ ہوگی، بلکہ سادہ طور پر وہ صبح کا انتظار بن جائے گی۔

وقتی شکست کا پیش آنا لازمی طور پر آپ کی کو تاہی نہیں، وہ فطرت کے عمومی قانون کی بنا پر ہے۔ یہ دنیا اسی ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں فتح کے ساتھ شکست بھی پیش آئے، یہاں کامیابی کے ساتھ آدمی کو ناکامی کا بھی تجربہ ہو۔ گو یا کہ جو ہوا، وہی ہونا بھی چاہئے تھا، ایسی حالت میں دل شکستہ ہونے کی کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page