قرآنی انقلاب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹
قرون وسطیٰ میں یورپ کا طریقہ، اساتذہ کی کتابوں کو پڑھنا اور انھیں کی رایوں کو دہرانا تھا۔ اس کے مقابلہ میں عربوں نے تجربہ و مشاہدہ پر مبنی طریق تحقیق کو رواج دیا۔ تحقیقاتِ علمی کے لیے تجرباتی طریقہ کو کچھ لوگ غلط طور پر راجر بیکن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ کے موجد عرب تھے۔ گستا ولیبان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ دراصل عرب تھے جنھوں نے علمی تحقیقات میں تجربہ کو داخل کیا (تمدن عرب)
ڈریپر نے لکھا ہے کہ عربوں کی عقلِ سلیم نے یہ بات انھیں سمجھادی تھی کہ سائنس کی ترقی محض تخیل سے نہیں ہوسکتی۔ اس کا صحیح اور یقینی ذریعہ صحیفہ فطرت کا عینی مطالعہ ہے۔ وہ حکمتِ نظری پر حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے علم کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر تھی۔ فن ہندسہ اور ریاضیات کو وہ استدلال واستنباط کے آلات تصور کرتے تھے۔ علم ہیئت میں انھوں نے غیر معمولی ترقیاں کیں۔
موسیوتاتاں نے " جنرل ہسٹری آف سائنس" میں لکھا ہے کہ عربوں نے دنیا میں علمی ذوق کو نئے سرے سے بیدار کیا۔ وہ رصد گاہ، جر ثقیل اور علم کیمیا کے حیرت انگیز آلات کے موجد تھے۔ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار اسپتال قائم کیا جہاں نہ صرف مریضوں کا علاج ہوتا تھا، بلکہ طبیبوں کی ٹریننگ اور طبی تحقیقات کا کام بھی انجام دیا جاتا تھا۔
عربوں میں یہ علمی ذوق کیسے پیدا ہوا۔ جواب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ۔ قرآن میں باربار نہایت طاقت ور انداز میں کائنات کے مطالعہ پر زور دیا گیا ہے۔ کائناتی مطالعہ پر یہ زور اگرچہ اثباتِ توحید اور اضافہ ایمان کے مقصد کے تحت دیا گیا تھا۔ مگر جب کائنات کے مطالعہ کا ذہن پیدا ہو گیا تو قانون فطرت کے مطابق وہ ایک حد پر نہیں رکا۔ وہ مزید آگے بڑھا۔ اس ذہن کے دوسرے فائدے بھی نکلے۔ ان میں سے ایک فائدہ مذکورہ سائنسی ذوق کا پیدا ہونا تھا۔
صحیح ذہن اور صالح مزاج پیدا کرنے کی مہم چلائی جائے تو ابتداً طور پر خواہ اس کا مقصد صرف ایک ہو، مگر جب وہ ظہور میں آتا ہے تو اس سے بے شمار دوسرے فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues