Al-Risala · March 1994 · page 20

خلل سے پاک

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰

خلل سے پاک

قرآن نے اپنے بارہ میں یہ اعلان کیا ہے کہ بے شک یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ حکیم و حمید کی طرف سے اتاری گئی ہے (وانه لكتاب عزيز لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد حم السجدة ۴۱-۴۲ "باطل نہ اس کتاب کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کتاب کے پیچھے سے " یہ ایک جامع بیان ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اندر اور باہر دونوں طرف سے محفوظ ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ داخلی اعتبار سے اس کے ماننے والے اس کے متن میں کوئی تبدیلی لاسکیں اور نہ باہر کی کوئی طاقت ایسا کر سکتی ہے کہ وہ اس میں کوئی خرابی پیدا کر دے۔

یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک پیشین گوئی بھی۔ اور صدیوں پر صدیاں گزرتی جارہی ہیں مگر نہ قرآن کے اس چیلنج کو کوئی رد کر سکا اور نہ اس پیشین گوئی میں کوئی فرق واقع ہوا۔ جب کہ دور قدیم کی تمام کتابیں اس کا شکار ہو کر اپنی اعتباریت کھو چکی ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں معلوم ہے کہ ان کے ہاتھ میں یہ صفت دی گئی تھی کہ جب وہ اس کو اپنی بغل میں ڈال کر اسے نکالتے تو ان کا ہاتھ سفید چمک دار ہو جاتا تھا۔ یہ واقعہ بائبل میں ان الفاظ میں درج ہے :

"پھر خداوند نے موسیٰ سے یہ بھی کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔ اس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ پھراپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے پھر اسے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا۔ جب اس نے اسے سینہ پر سے باہر نکال کر دیکھا تو وہ پھر اس کے باقی جسم کی مانند ہو گیا (خروج ۴ : ۶-۸)

اس عبارت میں "کوڑھ سے" کے الفاظ کسی یہودی عالم کا اضافہ ہیں۔ اس نے خود سے تشریح کے طور پر متن کے ساتھ یہ الفاظ لکھ دیے اور ایک عرصہ کے بعد وہ مقدس بن کر اصل متن

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page