A New Theory of Human Evolution
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
قرآن سے پہلے مصر کے لوگ انسانوں کو غریب اور امیر، چھوٹے اور بڑے، رعایا اور بادشاہ کے خانوں میں بانٹے ہوئے تھے ۔ عام آدمی خاص لوگوں کے مقابلے میں اپنے کو حقیر سمجھتا تھا۔ خاص لوگ عام لوگوں کے مقابلے میں اپنے کو اونچا فرض کیے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک انسان اور دوسرے انسان میں طرح طرح کے فرق و امتیاز قائم ہو گئے تھے۔
قرآن نے انسانی برابری کا اعلان کیا تو مصریوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ ان کو معلوم ہوا کہ وہ منفرضوں میں اور مصنوعی خیالات میں جی رہے تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ اب تک اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے اور اب خدا کی کتاب انہیں روشنی کا تعارف کرا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے ۔
قرآن سے پہلے مصر کے لوگ خدا کے بارہ میں توہم پرستانہ عقیدوں میں مبتلا تھے۔ مثلاً وہ دریائے نیل کو ایک خدائی مظہر سمجھتے تھے اور ہر سال اپنی ایک لڑکی کو عمدہ کپڑے پہنا کر اس کی موجوں میں بھینٹ کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نیل دیوی اس طرح ان سے خوش رہے گی اور ان کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرنے کے لیے اپنا پانی بھیجتی رہے گی۔
قرآن نے خالص توحید کا اعلان کیا۔ قرآن نے بتایا کہ خدا ایک ہے۔ ساری کائنات اور تمام دریا اور پہاڑ اسی کی مخلوق ہیں۔ سارا اختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ آدمی کو اسی سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے اپنی حاجتوں کو مانگنا چاہیے ۔
قرآن کی یہ بات مصریوں کے دل کی بات بن گئی۔ ان کی فطرت ایک خالق کا تقاضا کر رہی تھی، مگر توہماتی خداؤں میں ان کی روح کو سچی تسکین نہیں ملتی تھی۔ یہ عقیدے انہیں اپنی فطرت کے مطابق نظر نہیں آتے تھے۔ وہ روایتی طور پر ان کو پو جتے تھے مگر ان کا دل ان کی صداقت پر پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا تھا۔
قرآن نے جب خدا کا بے آمیز تصور پیش کیا تو وہ انہیں اپنے دل کی آواز معلوم ہوا۔ وہ اس میں اپنی روح کی تسکین پانے لگے۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہی وہ حقیقت ہے جس کی تلاش ان کی فطرت میں چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے دوڑ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیا۔ یہی معاملہ ساری دنیا میں پیش آکا رہا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues