Al-Risala · March 1994 · page 32

حق کی یافت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲

حق کی یافت

بیکی ہاپکنز ایک امریکی خاتون ہیں، وہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن کا مطالعہ کیا اور اتنا متاثر ہوئیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کا ایک مفصل خط ایک امریکی میگزین میں چھپا ہے۔ اس کا کچھ حصہ ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں : جن سوالوں کا جواب میں اپنی پوری زندگی میں تلاش کرتی رہی ہوں، ان کا جواب پانا میرے لیے کتنا زیادہ تسکین کا باعث ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا ہو اور پھر اچانک وہ سچائی کو دیکھنے لگے اور ایسی روشنی کو پالے جس کو اس نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ میں اس خوشی کو کیوں کر بیان کر سکتی ہوں جو صرف سچائی کو پانے سے حاصل ہوتی ہے۔

میں چاہتی ہوں کہ میں نے جو چیز پائی ہے اس کو میں ساری دنیا کے سامنے گائوں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر شخص جس کو میں نے کبھی جانا ہو وہ اس میں میرا حصہ دار بنے۔ اور جو دروازہ میرے لیے کھلا ہے اس پر جشن منانے میں وہ میرا شریک ہو۔

اور سب سے زیادہ بڑی اور سب سے زیادہ عجیب چیز جو مجھے دکھائی گئی وہ قرآن تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page