حق کی یافت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
کتنا زیادہ میں اپنے قرآن سے محبت کرتی ہوں ۔ جب بھی مجھے موقع ملتا ہے تو میں اس کو پڑھتی ہوں ۔ میں اس کو اپنے سے الگ نہیں رکھ سکتی ۔ حتی کہ انگریزی ترجمہ میں بھی اس کے الفاظ میرے دل کو مسرت دیتے ہیں اور میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں ۔
کتنی ہی بار ایسا لمحہ آیا ہے جب کہ میں نے خدا کی کتاب کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور اس کے بارہ میں سوچ کر میں روئی ہوں ۔ اس کے بغیر میری ساری زندگی کتنی احمقانہ زندگی ہوتی ۔ اسلام کے بغیر میری زندگی کیسی ہوتی ، اس کو سوچ کر میں کانپ اٹھتی ہوں ۔
اگر میں سب سے زیادہ اونچے پہاڑ پر چڑھ سکتی اور میری آواز ہر اس آدمی تک پہنچ سکتی جو اسلام سے بے خبر ہے تو میں چلا کر ان کو وہ بتاتی جو مجھے بتایا گیا ہے ۔ میرے سوالات کا جواب مجھے مل گیا ۔ اب میں جانتی ہوں کہ سچائی کیا ہے ۔ ہر آدمی جو دنیا میں ہے ، وہ مجھ کو سچائی ملنے پر اگر اللہ کا شکر ادا کرے ، اور وہ ایک سو سال تک ہر روز ایک سو بار ایسا ہی کرتا رہے تب بھی اس احسان پر شکر کا حق ادا نہیں ہو گا ( بیکی ہاپکنز )
مذکورہ امریکی خاتون کے لیے قرآن اتنی حیرت انگیز دریافت کیوں بن گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسان کی تلاش کا جواب ہے ۔ اس خاتون نے ، بہت سے دوسرے مردوں اور عورتوں کی طرح ، اس میں اپنی تلاش فطرت کا جواب پا لیا ۔ اور اپنی تلاش کا جواب پانے سے زیادہ بڑی خوشی انسان کے لیے اور کوئی نہیں ۔
قرآن روح انسانی کا ثمنی ہے ۔ انسان عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے سچائی کا طالب ہے ۔ اسی فطری اور عالم گیر سچائی کو بتانے کے لیے تمام پیغمبر آئے ، تمام پیغمبروں نے ایک ہی سچائی کا اعلان کیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کی بتائی ہوئی تعلیمات اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں ۔ مگر آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی کتاب ( قرآن) آج بھی اپنی اصل اور ابتدائی حالت میں کامل طور پر محفوظ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ دوسری مقدس کتابوں نے تبدیلیوں کے نتیجہ میں انسانی فطرت کے ساتھ اپنی مطابقت کھودی ہے ، جب کہ قرآن اپنی اس مطابقت کو پوری طرح باقی رکھے ہوئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن آج تمام انسانوں کے لیے سچائی کا واحد ماخذ بن گیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues