Al-Risala · March 1994 · page 47

خدا سے ڈرو

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷

قرآن کی اس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن کے بعد خدا کا دین خشیتِ انسانی کے دور سے نکل کر خشیتِ خداوندی کے دور میں داخل ہو گیا۔ اب اگر اہل ایمان کو خطرہ ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ خدا کے دین کے معاملہ میں کوتاہی کریں۔

خشیتِ بشری کے دور کے ختم ہونے کا مطلب کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا انقلاب لایا گیا ہے جو ابدی طور پر اس دین کا محافظ بن گیا ہے۔ اس انقلاب کے مختلف پہلو ہیں :

۱۔ اس انقلاب کے ذریعہ مذہبی تعذیب (religious persecution) کا دور ختم ہوا اور مذہبی آزادی کا دور آگیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ آزادانہ طور پر قرآن کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور اسی کے ساتھ آزادانہ طور پر لوگوں کو اس سے متعارف کیا جائے۔

۲۔ اس انقلاب کے بعد ساری دنیا میں آزادانہ تحقیق (free inquiry) کا دور شروع ہوا۔ اس کے نتیجہ میں خالص علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن کے سوا تمام مذہبی کتابیں تاریخی اعتبار سے غیر معتبر ہیں۔ اب معتبر مذہبی کتاب صرف ایک ہے، اور وہ قرآن ہے۔ ۳۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں دنیا میں سائنسی دور آیا۔ فطرت کے راز دریافت ہوئے۔ اس کی وجہ سے قرآن کے بیانات خالص سائنسی معیار پر ثابت شدہ بن گئے۔ حتیٰ کہ کسی کے لیے اس کا انکار کرنا نا ممکن ہو گیا۔

۴۔ اس انقلاب کے بعد پریس کا دور آیا اور جدید ذرائع ابلاغ تک انسان کی رسائی ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کے پیغام کو کسی رکاوٹ کے بغیر ساری دنیا کی قوموں تک پہنچایا جا سکے۔ دینِ حق کا کلمہ ہر چھوٹے بڑے گھر میں داخل کر دیا جائے۔ ۵۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں علم کا پھیلاؤ ہوا۔ حتیٰ کہ اس انقلاب نے قرآن اور اسلامی لٹریچر کو تمام دنیا کے ناشرینِ کتب کی ضرورت بنا دیا۔ تمام تعلیم گاہوں اور یونیورسٹیوں میں قرآن اور دین اسلام کی تعلیم کے شعبے کھل گئے۔ دنیا بھر کی لائبریریوں میں اسلامی لٹریچر فراہم کیا جانے لگا۔

اس معاملہ کی تفصیل راقم الحروف کی دوسری کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page