Al-Risala · March 1994 · page 48

سائنس داں کی گواہی

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۸

سائنس داں کی گواہی

سرجیمس جینس (James Jeans) مشہور انگریز سائنس داں ہے ۔ وہ ۱۸۷۷ میں لندن میں پیدا ہوئے اور ۱۹۴۶ میں ڈور کنگ میں ان کی وفات ہوئی۔ طبیعیات، میتھمیٹکس اور فلکیات میں انھوں نے بہت سی نئی دریافتیں کیں۔ کیمبرج یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی میں انھوں نے ۱۹۰۵ اور ۱۹۱۲ کے درمیان پروفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔

اس زمانہ میں جب کہ سرجیمس جینس سائنس کے استاد تھے، ان کے شاگردوں میں ایک ہندوستانی نوجوان بھی شامل تھا جو بعد کو علامہ عنایت اللہ مشرقی (۱۹۶۳-۱۸۸۸) کے نام سے مشہور ہوا۔ عنایت اللہ مشرقی انگلینڈ میں زمانہ قیام کا ایک ذاتی واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

"۱۹۰۹ کا ذکر ہے ۔ اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے باہر نکلا تو کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور ماہر فلکیات سرجیمس جینس پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے قریب ہو کر سلام کیا۔ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : تم کیا چاہتے ہو ۔ میں نے کہا کہ دو باتیں ۔ اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے۔ سر جیمز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتا کھول لیا۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے، یہ کیا۔ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھر کے لیے رک گئے ، اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو۔ چنانچہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پہنچا۔ ٹھیک ہم بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں : سر جیمز تمھارے منتظر ہیں۔ اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے کرسی پر بیٹھے تھے۔

کہنے لگے : تمھارا سوال کیا تھا۔ اور پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں ، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی کشش اور طوفان ہاے نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبری او جبروت پر دہلنے لگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page