مساوی انصاف کا نظریہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷
نیگر و پیدائشی غلام ہیں۔ یہ ابتدائی دور کے لوگ ہیں اور تہذیب کو اختیار کرنے کے لیے نااہل ہیں : The negro is a natural slave. The Europeans regarded the African as primitive without culture and incapable of civilisation. Slave Trade in Africa, 1985, p.7 نسلی بادشاہت کے نظام میں شاہی خاندان والوں نے اپنے آپ کو آقا (816/V) اور دوسروں کو رعایا۔ ان کا خیال یہ ہوگیا کہ انھیں دوسروں کے اوپر پیدائشی فضیلت حاصل ہے۔ اور ان کو مطلق طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے اوپر حکومت کریں اور دوسروں پر لازم ہے کہ وہ ان کے آگے جھک جائیں۔ تمام (God's representative) قدیم زمانوں میں بادشاہ یا تو خدا سمجھے جاتے تھے یا خدا کے نمائندہ عوام کی یہ لازمی ذمہ داری تھی کہ وہ ہر حال میں بادشاہ کے مطیع اور فرماں بردار بنے رہیں سمجھ لیا (privileged class) اسی طرح دولت مند لوگوں نے اپنے آپ کو حقوق یافتہ طبقہ (deprived class) اور غریب لوگوں کو محروم طبقہ قرار دیا۔ جس آدمی کے پاس دولت آجائے وہ گویا ایک علامت تھی کہ وہ خدا کی عنایت و رحمت سے فیض یاب ہوا ہے۔ اور جس آدمی کو دولت نہ ملے وہ گویا ایک ایسا شخص ہے جس کو خدا نے اپنی عنایتوں سے دور کر دیا۔
سماجی ناانصافی کے یہ تمام نظریات اس لیے پیدا ہوئے کہ لوگوں نے انسان اور انسان کے درمیان فرق دیکھا۔ یہ بجائے خود ایک حقیقت ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان ظاہری اعتبار سے مختلف قسم کے فرق پائے جاتے ہیں۔ مثلاً رنگ کا فرق، جسمانی بناوٹ کا فرق، دولت اور طاقت کا فرق، وغیرہ۔ اسی فرق کی غلط توجیہہ نے مذکورہ تمام امتیازات اور بے انصافیوں کو پیدا کیا ہے۔
سماجی نابرابری کا تصور تاریخ میں مسلسل پایا گیا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ انسانوں کے سمجھ لیا گیا۔ مختلف قسم کے نظریے اور فلسفے (inborn) کو پیدائشی (differences) درمیان فرق وجود میں آئے جو انسانوں کے درمیان فرق کا کوئی نہ کوئی ایسا سبب بتاتے تھے جس کا تعلق پیدائش سے (birth-based explanations) ہوتا تھا۔ فرق کی یہی مبنی بر پیدائش توجیہات ہیں جنھوں نے "پائے ہوئے " لوگوں کو یہ جواز دیا کہ وہ "کھوئے ہوئے" لوگوں کو برابری کا درجہ اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues