ماه نامه اپریل ۱۹۹۳ء
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۵۸
کے سابق ایڈیٹر گری لال جین کی یاد میں بلائی گئی۔ موجودہ ایڈیٹر مٹر ڈیپ پیڈ گاڈ نکر نے اس میں تقریر کرتے ہوئے جو بات کہی اس کو یہاں میں دہراؤں گا۔ انھوں نے کہا کہ کسی انسان کی آئیڈ نٹی ہمیشہ کئی چیزوں سے مل کر بنتی ہے۔ اس کو آپ محدود روپ نہیں دے سکتے ۔
انھوں نے کہا کہ میری آئیڈنٹی کا ایک پہلو یہ ہے کہ میں ایک خاص خاندان میں پیدا ہوا۔ دوسرا یہ کہ ایک خاص زبان میری مادری زبان بنی۔ میرے رہن سہن پر کچھ حالات کا اثر پڑا۔ میرے سماجی بیک گراؤنڈ سے میرا ایک مذہب بنا۔ میں باہر کے دیشوں میں گیا۔ اس نے بھی میرے اوپر کچھ اثرات ڈالے۔ اس قسم کی بہت سی چیزیں میری شخصیت کے اجزاء ہیں۔ اور انسانی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ وہ بیک وقت بہت سے متضاد چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے :
I am large enough to contain all these contradictions. میں سمجھتا ہوں کہ یہ قول انڈیا کی اسپرٹ کو بلکہ وسیع تر معنی میں انسانیت کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ کچھ لوگ یہ شکایت کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ، ۱۹۴۷ سے پہلے انڈیا کے لیڈروں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آزادی کے بعد "ہندوستانی " ملک کی زبان ہوگی جو فارسی اور دیوناگری رسم الخط میں لکھی جائے گی۔ مگر آزادی کے بعد ہندی کو ملک کی سرکاری زبان بنا دیا گیا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ شکایت کچھ زیادہ وقع نہیں ۔
زبان مشترک کلچر کا اہم حصہ ہے۔ زبان کو کوئی بناتا نہیں۔ زبان تاریخی عمل کے دوران اپنے آپ بنتی ہے۔ انڈیا میں مسلمان آئے تو وہ عربی، فارسی زبان لے آئے ۔ اس وقت دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں ہریانی، پنجابی، کھڑی بولی، برج بھاشا، راجستھانی وغیرہ بولیاں رائج تھیں۔ ان بولیوں سے مسلمانوں کا میل جول بڑھا تو اس کے نتیجہ میں ایک ملی جلی زبان بننا شروع ہوئی یہ زبان بعد کو ہندوستانی کہلائی۔ یہ مشترک زبان ملکی اور غیر ملکی دونوں زبانوں کے الفاظ اور اسلوب کے ملنے سے بنی۔ یہ بیچ کی اور مشترک زبان آج بھی انڈیا کے بیشتر لوگوں کی زبان ہے۔ مسلمانوں کے لیے وہ گویا کہ آسان اردو ہے اور ہندو کے لیے وہ آسان ہندی ۔ آج تمام بڑے بڑے ہندی اخبار جس زبان میں نکلتے ہیں وہ یہی ہندوستانی زبان ہے جس کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ اور جو انڈیا کے بیشتر لوگوں کے لیے آج بھی واحد قابل فہم زبان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues