Al-Risala · January 1994 · page 18

مساوی انصاف کا نظریہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸

برابری کا انصاف دینے سے انکار کر سکیں۔

مثلاً ہندوستان میں اس فرق کو دیکھ کر ورن کا عقیدہ پیدا ہوا۔ ورن کے لفظی معنی رنگ کے ہوتے ہیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے رنگ میں فرق ہے، اس سے انھوں نے یہ اخذ کیا کہ ایک قسم کے رنگ والے خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں اور دوسرے قسم کے رنگ والے خدا کے پاؤں سے : Indian society is made up of four different varnas. The Rigveda (10.90) has declared that the Brahmin, the Ksatriya, the Vaisya, and the Sudra issued forth at creation from the mouth, arms, thighs and feet of Purusa. (X/361) یورپ میں نسلی امتیاز کا نظریہ (racism) پچھلی صدیوں میں شدت کے ساتھ پھیلا۔ اور اب تک وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ابتدائیہ ذہن اس لیے پیدا ہوا کہ اہل یورپ نے اپنے اور دوسروں کے درمیان رنگ اور کلچر میں فرق پایا۔ اس سے انھوں نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ وہ دوسروں سے برتر (superior) ہیں اور دوسرے لوگ ان سے کمتر (inferior)

موجودہ زمانہ میں نظریہ ارتقاءءءء کے ظہور نے اس کو مزید پختہ کر دیا۔ کیوں کہ سماجی ڈارونیت (Social Darwinism) کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسانیت مختلف ارتقائی مرحلوں سے گزری ہے اور مغربی تہذیب اس کا درجہ کمال ہے :

Mankind was regarded as having achieved various levels of evolution, culminating in the white-European civilization. (15/363)

اس کے مطابق، یورپ کے سفید فام لوگ ارتقا یافتہ نسل قرار پائے اور دوسرے غیر سفید فام طبقے عمل ارتقا میں پیچھے رہ جانے والے لوگ۔

قدیم زمانہ میں نسلی فرق کے بارہ میں تو ہما تی نظریات کی بنا پر امتیاز کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے بظاہر اس امتیاز کے حق میں ایک علمی بنیاد فراہم کر دی۔ کیوں کہ اس نے بتایا کہ بہت سے انسانی گروہ ارتقائی عمل میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کچھ گروہ عمل ارتقا میں اعلیٰ (superior) ہو گئے اور کچھ دوسرے گروہ پیچھے رہ کر ارتقا کے ابتدائی مرحلہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page