قومی دھارا اور اقلیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۶۰
قومی دھارا اور اقلیت
اقلیتیں اور قومی دھارا (Minorities in India and the national mainstream) کا سوال لمبی مدت سے انڈیا کے فکری ایجنڈے پر ہے۔ ہمارے تمام سنجیدہ دماغ اس پر لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ مگر پچاس سالہ ڈیبیٹ کے باوجود اس اہم ترین سوال کے بارہ میں ابھی تک فکری اتفاق رائے بھی نہ ہوسکا۔ کجا کہ عملی اعتبار سے اس کی جانب کوئی حقیقی پیش رفت ہوئی ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں ابھی تک ہم نقطہ آغاز متعین کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے ، جب کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک کا مستقبل سب سے زیادہ اسی سوال کے صحیح جواب پر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ اس مسئلہ پر از سر نو مزید سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے ۔ اور کم از کم نظری سطح پر کسی قابلِ عمل اسکیم تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ۔ اگر ہم اس کی نظری بنیاد طے کرنے میں کامیاب ہو سکیں تو یہ ہمارے لیے پچاس فی صد کامیابی کے ہم معنی ہوگا۔ اور اس پر یہ مقولہ صادق آئے گا کہ بہتر آغاز کا مطلب یہ ہے کہ آدھا کام ہو گیا : Well begun is half done. یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں اقلیت اور اکثریت کے اختلافات نہایت شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان اختلافات کے نتیجہ میں جو باہمی ٹکراؤ پیش آیا ہے اس سے ملک کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کا کوئی مناسب حل تلاش نہ کیا جائے ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ممکن نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان پر امن تعلقات قائم کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اور اس کا ماڈل کیا ہو۔ جہاں تک میرا خیال ہے ، اس معاملہ میں غور و فکر کے لیے ہمارے سامنے بنیادی طور پر دو ماڈل ہیں۔ ایک ماڈل وہ جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں فرقے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہنے کا طریقہ اختیار کریں ۔ دوسرا ماڈل وہ جو اس نظریہ پر مبنی ہے کہ تمام اختلافات کو مٹا کر سب کو ایک بھارتی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues