قومی دھارا اور اقلیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۶۱
نمونہ ڈھال دیا جائے ۔ ان میں سے اول الذکر کو میں ملٹی کلچر ماڈل کہوں گا اور ثانی الذکر کو یونی کلچر ماڈل ۔ انڈیا کے ابتدائی معماروں نے اس معاملہ میں جو ماڈل پیش کیا وہ وہی تھا جس کو میں نے ملٹی کلچر ماڈل کا نام دیا ہے۔ یہ ماڈل بقاء باہم (co-existence) کے اصول پر مبنی تھا۔ یعنی ملک کے مختلف گروپ اپنے کلچرل تشخص کو باقی رکھتے ہوئے وسیع تر ملکی مفاد کی سطح پر ایک قوم بن جائیں۔ یہاں میں یہ کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ اس ماڈل کو واقعہ بنانے کے لیے اس پولیٹیکل گروپ کو ایک قیمت ادا کرنا تھا جس کو آزادی کے بعد ملک میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے رولنگ گروپ یہ قیمت ادا کرنے میں ناکام رہا۔ اس لیے یہ ماڈل، اپنی اصولی صحت کے باوجود، کامیاب نہ ہو سکا۔
وہ قیمت کیا تھی، وہ قیمت ایک لفظ میں تھی، فری اینڈ فیئر الیکشن۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد کسی بھی تعمیری کام کے لیے ملک میں یہ ماحول قائم کرنا ضروری تھا کہ یہاں کا ہر سیاسی گروہ یہ محسوس کرے کہ اقتدار کا دروازہ اس کے لیے کھلا ہوا ہے اور پر امن جمہوری ذرائع کو استعمال کر کے وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر رولنگ گروپ ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد اس کا حریص ہو گیا کہ اس کا اقتدار ہمیشہ ملک میں باقی رہے۔
کوئی رولنگ گروپ جب ایسا چاہنے لگے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ غیر رولنگ طبقات کو دکھائی دینے لگتا ہے کہ امن اور آئین کے حدود میں رہ کر اقتدار تک پہنچنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اب چونکہ جمہوری دور میں کوئی بھی شخص اپنی سیاسی محرومی پر راضی نہیں ہو سکتا، اس لیے اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج میں تخریبی سیاست کا ذہن پر پرورش پانے لگتا ہے۔
آزادی کے بعد انڈیا میں یہی ہوا۔ رولنگ گروپ کے باہر جو پولیٹیکل عناصر تھے، انھوں نے محسوس کیا کہ امن اور قانون کے حدود کی پابندی کرتے ہوئے وہ اقتدار تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس لیے انھوں نے غیر آئینی طریقہ پر اقتدار تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ انڈیا جیسے نیم خوانده ملک میں ان کے لیے اس مقصد کے حصول کا سب سے زیادہ آسان ذریعہ جذباتی سیاست تھا۔ چنانچہ انھوں نے خاص طور پر ۱۹۸۵ کے بعد نہایت شدت کے ساتھ "مندر مسجد" کے اشو کو
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues