Al-Risala · April 1994 · page 62

قومی دھارا اور اقلیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۶۲

بھڑ کایا۔ ۔ اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔ اس دوسری سیاست کے فروغ ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ملک میں ملٹی کلچر کا ماڈل دب گیا اور اس کے بجائے ایک اور ماڈل ابھر کر سامنے آگیا۔ اس دوسرے ماڈل کو ایک لفظ میں یونی کلچر ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ ملک کے باشعور طبقہ میں یہ دوسرا ماڈل اگر چہ کافی کنٹرول ورشیل رہا ہے۔ تاہم عوام کی سطح پر، خاص طور پر شمالی ہند میں، یونی کلچر ماڈل کی مقبولیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری نظام میں، خالص اصول کی بنیاد پر کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا کہ وہ یونی کلچر ماڈل کی بات کرے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ عملی طور پر یہ ماڈل قابل عمل (feasible) نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیچر کے خلاف ہے۔ وہ نیچرل لاکو بدلنے کے ہم معنی ہے ، اور کوئی بھی طاقت نیچر کو بدلنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔

تعدد (diversity) زندگی کا ایک ابدی قانون ہے۔ ایک گھر میں دس آدمی ہوں تو ہر آدمی کا مزاج الگ الگ ہوگا۔ ہر ایک کی پسند اور ناپسند جدا ہو گی۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر قوم کا ہے۔ قوم کے مختلف گروپ عین فطرت کے قانون کی بنا پر الگ الگ ذہن کے ہوتے ہیں۔ پھر کون انھیں بدل سکتا ہے ۔ نیچر کو بلڈوزر کرنا کسی پاور یا سپر پادر کے لیے ممکن نہیں۔

جو لوگ یونی کلچر“ کے حامی ہیں، وہ خود بھی اس معاملہ میں تضاد فکری کا شکار ہیں مثلاً ان کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب نے اپنے پچاس سالہ دور حکومت میں انڈیا میں یکساں کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ اسی طرح برٹش ایمپائر کو اس ملک میں سو سال سے زیادہ مدت تک حکومت کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے بھی ملک میں یکساں کلچر لانے کے لیے اپنی ساری کوشش صرف کر دی۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا کہ وہ پورے ملک کو ایک کلچرل رنگ میں رنگ دے ۔

باہر کی دنیا میں بھی اس نوعیت کی تجرباتی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں امریکنائزیشن کی تحریک چلائی گئی۔ اس کا مقصد امریکہ میں بسنے والے مختلف کلچرل گروپ کو ایک امریکی کلچر میں رنگنا تھا۔ مگر یونی کلچر لزم کی یہ تحریک ساری کوشش کے باوجود امریکہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page