قومی دھارا اور اقلیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۶۳
میں فیل ہوگئی۔ آخر کار انھوں نے حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی کلچر ازم کے اصول کو اختیار کر لیا۔
ایسی حالت میں انڈیا کے یونی کلچر سٹوں کے پاس وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ نیچر سے لڑائی کے جس میدان میں دوسرے تمام لوگ ناکام ہو چکے ہیں، اس میں وہ استثنائی طور پر کامیابی حاصل کر لیں گے۔
مزید یہ کہ یونی کلچر ازم کا یہ نظریہ اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بے فائدہ ہے۔ کیونکہ ہمارا مقصد یونی کلچر برائے یونی کلچر نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد سوشل ہارمنی یا نیشنل ہارمنی کا ماحول پیدا کرنا ہے، اور اس مقصد کا کوئی تعلق یونی کلچر سے نہیں۔
اس کی ایک قریبی مثال ہندو اور سکھ کا معاملہ ہے۔ سکھ عملی طور پر ہندو ازم ہی کا ایک حصہ تھے۔ چنانچہ پچھلے ساڑھے چار سو سال سے دونوں کا کلچر ہر اعتبار سے تقریباً ایک تھا۔ اس کے باوجود دونوں میں زبردست اختلاف برپا ہوا جو ابھی تک دونوں کے درمیان خونیں ٹکراؤ کی صورت میں جاری ہے۔ یونی کلچر اگر ہارمنی لانے کے لیے کافی ہوتا تو ہندو۔ سکھ مسئلہ کبھی اس ملک میں پیدا نہ ہوتا۔
ایسی حالت میں ملک کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی (ہارمنی) لانے کا واحد ممکن طریقہ یہ ہے کہ اس متفقہ اخلاقی اصول کو اختیار کر لیا جائے جس کو مغرب میں اختلاف پر اتفاق (let us agree to disagree) اور انڈیا میں بقاء باہم (co-existence) کا اصول کہا جاتا ہے ۔ اس کے مطابق، اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود مل کر رہنے کا آرٹ سیکھیں۔ وہ ایک دوسرے کا احترام (respect) کریں ۔ وہ اختلافی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور صرف اتفاقی پہلوؤں پر زور دیں۔ یہ ایک طریق زندگی (way of life) ہے۔ اور ٹالرنس اسی طریق زندگی کا عنوان ہے۔ ٹالرنس ہی واحد بنیاد ہے جس پر کسی سماج میں ہارمنی لائی جاسکتی ہے۔ اس کے سوا جو نظریے پیش کیے جاتے ہیں وہ صرف خوب صورت الفاظ ہیں جو کبھی عمل میں آنے والے نہیں۔ انڈیا میں ایک بڑا سبق آموز ظاہر موجود ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues