قومی دھارا اور اقلیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲
سکھ اقلیت اگر چہ مجارٹی کمیونٹی کے پھول مین اسٹریم میں پوری طرح شامل تھی۔ اس کے باوجود سکھ اور ہندو کے درمیان خونیں ٹکراؤ پیش آیا ۔ دوسری طرف اسی ملک میں کرسچین اور پارسی ہیں ۔ وہ واضح طور پر اپنا علیحدہ کلچر رکھتے ہیں ۔ مگر ان میں اور مجارٹی کمیونٹی میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انڈیا میں کرسچین کی تعداد تقریباً ۳ فی صد ہے۔ پارسی اگر چہ بہت کم ، یعنی مجموعی طور پر صرف ایک لاکھ ہیں۔ تاہم اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ ملک میں ایک قابلِ لحاظ کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کرسچین اور پارسی دونوں مذہبی اعتبار سے بند سماج (close society) ہیں۔ ان کا کہیں کلچرل یکسانیت کا کیس نہیں بلکہ کلچرل انفرادیت کا کیس ہے۔ اس کے باوجود وہ نیشنل مین اسٹریم سے الگ نہیں سمجھے جاتے ۔
اس سوال کا جواب معلوم کرنے پر غور کیجئے تو ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی گروپ خواہ جو عقیدہ بھی رکھے اور اپنے دائرہ میں جس طرح بھی رہے ، اگر وہ دوسروں کے لیے نو پرابلم گروپ بنا ہوا ہو تو اس کے اور دوسروں کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہو گا۔
کرسچین کمیونٹی کا معاملہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑے پیمانہ پر تعلیم گاہ، اسپتال اور دوسرے رفاہی کاموں میں لگا دیا ہے ۔ وہ دوسروں سے ٹکراؤ کو آخری حد تک اوائڈ کرتے ہوئے اپنے اختیار کردہ دائرہ میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہی حال پارسی کمیونٹی کا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر صنعت اور تجارت کے دائرہ میں سمیٹ لیا ہے۔ ملک کے دوسرے طبقات سے ان کی نہ کوئی مانگ ہے اور نہ کوئی احتجاج ۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں ، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کرسچین اور پارسی دونوں اس ملک میں اپنے آپ کو " نو پرابلم کمیونٹی " بنائے ہوئے ہیں ۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جو گروپ کسی سماج میں نو پرابلم گروپ بن کر رہے وہ اپنے آپ دوسروں کے لیے قابلِ قبول بن جاتا ہے۔
اب مسلم کمیونٹی کو لیجئے ۔ اس وقت اصلاح سب سے بڑا مسلم مائنڈ بیٹی ہی کا ہے۔ کیونکہ ملک کی سب سے بڑی مائنڈ بیٹی ہونے کی بنا پر وہ نیکسٹ ٹو مجارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور یہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues