Al-Risala · April 1994 · page 13

قومی دھارا اور اقلیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳

ایک تاریخی حقیقت ہے کہ خواہ گروپ کا مسئلہ ہو یا فرد کا، مسٹر فرسٹ اور مسٹر نیکسٹ کے درمیان ہمیشہ کچھ نہ کچھ رقابت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا واحد قابل عمل حل صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ مسٹرنگسٹ مسٹر نو پرابلم بن جائے۔

مسلم کمیونٹی اور مجارٹی کمیونٹی کے درمیان پچھلے تقریباً ۵۰ سال سے مسلسل مممکش کش جاری ہے۔ اس کش کش نے مختلف صورتوں میں ملک کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس کا سبب صرف ایک ٹلے گا ، اور وہ ہے مسلم کمیونٹی کا پرابلم کمیونٹی کی صورت اختیار کر لینا ۔

اس معاملہ کو مزید گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ہندو مسلم مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی ہے جو ہندو سکھ مسئلہ ہے۔ ہندو اور سکھ اس ملک میں پچھلے ساڑھے چارسو سال سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ مگر ۲۰ سال پہلے سکھوں نے علیحدہ سکھ اسٹیٹ کی تحریک اٹھائی اور پھر اس کو وہ تشدد کی حد تک لے گئے ۔ اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوا۔

اس فرق کی وجہ سادہ طور پر صرف یہ تھی کہ خالصتان تحریک سے پہلے سکھ کمیونٹی اس ملک میں گویا نو پرابلم کمیونٹی کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس پر تشدد تحریک کے بعد وہ ایک پر ابلم کمیونٹی بن گئی۔ اور پرابلم گروپ ایک گھر کے اندر بھی برداشت نہیں کیا جاتا، پھر وہ پورے ملک میں کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔

ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ مسلم لیڈروں کی تقسیم ملک کی تحریک جو اربعینات میں شدت کے ساتھ اٹھی، ، اس سے پہلے اس ملک میں ہندو اور مسلمان پوری طرح مل جل کر رہتے تھے۔ دونوں میں فرقہ وارانہ سطح پر کوئی قابل ذکر کش کش موجود نہ تھی۔ لیکن پر شور دو قومی تحریک اور اس کے بعد ۱۹۴۷ میں ملک کے بٹوارہ نے اس ملک کے مسلمانوں کو اہل ملک کی نظر میں ایک پرابلم کمیونٹی بنا دیا ۔ یہی واحد سبب ہے جس کے نتیجہ میں ہندو اور مسلمان کا وہ مسئلہ انڈیا میں پیدا ہوا جس کے کڑوے نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اوپر کے تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ انڈیا کے مختلف فرقوں میں ہم آہنگی لانے کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page