Al-Risala · April 1994 · page 14

قومی دھارا اور اقلیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴

ملٹی کلچر ماڈل ہی واحد درست ماڈل ہے۔ کامیابی کے امکانات بھی صرف اسی کے لیے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کی موافقت صرف اسی کے ساتھ ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ مائنارٹی کمیونٹی اس کے قیام کے لیے اپنا ضروری تعاون دے۔ اور اس کا تعاون یہ ہے کہ وہ ملک میں نو پرابلم کمیونٹی بن کر رہنے لگے۔ اگر یہ شرط پوری ہو جائے تو اس کے بعد کوئی بھی چیز ملک میں ہارمنی کا ماحول پیدا کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مسلمان اگر اس ملک میں نو پرابلم کمیونٹی بن کر رہنے پر راضی ہو جائیں تو یہ ان کے لیے اپنے مذہب سے انحراف نہیں ہوگا بلکہ عین اپنے مذہب پر عمل کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے پرابلم کمیونٹی بننا اپنے مذہب سے انحراف تھا، اور نو پرابلم کمیونٹی بننا ان کے لیے اپنے مذہب کی طرف واپسی کے ہم معنی ہوگا۔ یہاں اس سلسلہ میں بطور مثال اسلام کے چند متعلق (relevant) حوالے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب مکہ میں آپ کے حامی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد آپ کو نئے حامی کی ضرورت تھی جس کی حمایت کے تحت آپ نبوت و رسالت کا کام جاری رکھیں آپ مختلف عرب قبائل کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے لو۔ اس سلسلہ میں جو تفصیلات سیرت کی کتابوں میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ایک قبیلہ سے ملے۔ اس سے جب آپ نے اپنی ضرورت بیان کی تو اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ میں صرف اعلان رسالت کا کام کروں گا۔ اور تم میں سے کسی شخص کو کسی ناپسندیدہ چیز پر مجبور نہیں کروں گا (ولا اکرہ احدا منکم علی شیئ)

اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہی ہوگی کہ میں تمہارے لیے کوئی پرابلم نہیں پیدا کروں گا۔ میں تمہارے درمیان ایک نو پرابلم انسان بن کر رہوں گا۔

قدیم مکہ میں کعبہ کے اندر ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر قرآن میں پہلی آیت اتری تو اس میں کعبہ کے بتوں کے مسئلہ کا کوئی حوالہ موجود نہ تھا۔ پہلا حکم جو قرآن میں دیا گیا وہ یہ تھا کہ اقرار پڑھو) اس کا مطلب یہ ہے کہ دور اول میں تطہیر مسجد کو اشو بنانے کے بجائے حصول علم کو اشو بنایا گیا۔ اس کے مطابق، موجودہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسجد کی بے حرمتی "کو اپنا اشو نہ بنائیں،

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page