Al-Risala · April 1994 · page 15

قومی دھارا اور اقلیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵

بلکہ ایجوکیشن کو اپنا اشو بنائیں۔

پیغمبر اسلام کے زمانہ میں مکہ کے لوگ بت پرست تھے۔ مگر پیغمبر نے ان کو بت پرست یا کافر کے لفظ سے خطاب نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم۔ اس سنت رسول کے مطابق مسلمانوں کو بھی انڈیا کے ہندوؤں کو اپنی قوم سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرنا چاہیے۔ پیغمبر اسلام نے راستہ سے رکاوٹ ہٹانے کو ایمان کی علامت بتایا ہے (اما طـۃ الاذی عن الطریق) ایسی حالت میں مسلمانوں کو اس پر احتجاج کرنے کی کیا ضرورت کہ شہر کی مصروف سڑک پر نماز پڑھنے سے انھیں منع کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کی تعلیم اسلام میں بہت پہلے سے موجود ہے۔

خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا تو انھوں نے باقاعدہ تحریر کی صورت میں وہاں کے مسیحیوں کو یہ اجازت دی کہ وہ یروشلم کی مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نکالیں۔ پھر ہندوستان کے ہندو اگر یہاں کسی مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس لے کر گزریں تو اس پر مسلمان کیوں اعتراض کریں اور کیوں ان کا جلوس روکنے کی کوشش کریں۔

پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ کہا جاتا ہے۔ وہاں حکومت کی طرف سے فیملی پلاننگ کی اسکیم چلائی جارہی ہے۔ پاکستانی اخباروں میں مسلسل ”خاندانی منصوبہ بندی“ کے اشتہارات حکومت کی طرف سے چھپتے رہتے ہیں۔ وہاں محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسے لفافے چھاپے گئے ہیں جن کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے : ”چھوٹا خاندان زندگی آسان۔ “ پھر انڈیا میں حکومت اگر اس قسم کی تحریک چلائے تو مسلمانوں کو اسے خطرہ سمجھنے اور اس پر ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت۔ سعودی عرب میں اور دوسرے اسلامی ملکوں میں استثنائی حالت میں مسجدیں ریلوکیٹ کی گئی ہیں۔ ایسی حالت میں انڈیا میں اگر استثنائی طور پر یا اضطرار کے حالات میں دفع شر کے لیے ایسا کوئی واقعہ ہو تو یہاں کے مسلمان اس کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھیں۔ عرب ملکوں میں مسجدوں کے اندر جلسہ اور تقریر کی اجازت نہیں۔ حتیٰ کہ نماز کے مخصوص اوقات کے علاوہ مسجد میں عبادت اور تلاوت کی بھی اجازت نہیں۔ ایسی حالت میں اگر انڈیا میں ہندو محلہ میں واقع مسجدوں میں رات کے وقت لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگائی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page