ہندوتو کے بارے میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
دلیپ پیڈ گاؤنکر (Dileep Padgaonkar) نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی کی مختلف حیثیت ہوتی ہے۔ آپ اس قانونِ قدرت کو بدل نہیں سکتے۔ اس معاملے میں ہمیں تنگ نظری کے بجائے وسعتِ نظری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ میں مہاراشٹر میں پیدا ہوا۔ اب میں دہلی میں رہتا ہوں۔ وطن، زبان، مذہب، تہذیب، تعلیم ہر لحاظ سے میری مختلف حیثیتیں ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے اعتبار سے میری مختلف حیثیت ہے۔ میری زندگی میں قدیم بھارتی عہد کا حصہ ہے۔ پھر میری زندگی پر مسلمانوں کے ہزار سالہ عہد کی چھاپ ہے۔ اس کے بعد برٹش عہد آیا۔ اس نے بھی میری زندگی پر اثرات ڈالے۔ اب میں آزاد انڈیا کا ایک فرد ہوں۔ یہ ساری چیزیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی میں اپنے سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے مشہور انگلش رائٹر والٹ وہسٹمین (Walt Whitman) کا قول دہرایا اور کہا کہ ہمیں ان تمام تضادات کے ساتھ جینا ہے۔ میں اس سے زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنی زندگی میں سمو سکوں :
We all have to live with our contradictions. I am large enough to contain all these contradictions. والٹ وہسٹمین (۱۸۹۲ - ۱۸۱۹) کا یہ قول زندگی کی ایک حقیقت کو بتاتا ہے۔ انسان تضادات کا مجموعہ ہے اور تضادات سے نباہ کر کے ہی وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
انڈین کلچر اور انڈین ہسٹری کے مشہور عالم پنڈت بی این پانڈے (۸۸ سال) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) میں چھپا ہے۔ ان سے یہ انٹرویو مسٹر ایس کالی داس نے لیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ آج کا ہندو تو ہمارے دھرم کی مقدس کتابوں سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے۔ اتھرو وید میں ہے کہ یہ دیش کئی مذہبوں، کئی نسلوں، کئی ذاتوں، کئی زبانوں کا دیش ہے۔ اس کے اندر مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس دیش کو بس کرنے کے لیے ایک اصول کو مان لینا چاہیے۔ وہ یہ کہ یہ سرزمین ہماری مادرِ وطن ہے اور ہم سب اس کی سنتان ہیں۔ اس طرح پانچ ہزار سال پہلے ہم اس اصول پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس دیس میں زبان، عقیدہ اور کلچر کے اختلاف کے باوجود ہم پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues