مسلم مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی۔ پھر شکایت کس لیے۔
زندگی میں ہمیشہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ مائنس پوائنٹ بھی اور پلس پوائنٹ بھی۔ آدمی اکثر یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ مائنس پوائنٹ میں اس طرح الجھتا ہے کہ پلس پوائنٹ اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی کمزوری ہے۔ جو لوگ اس کمزوری میں مبتلا ہوں وہی اس دنیا میں ناکام رہتے ہیں۔ اور جو لوگ اس کمزوری سے اوپر اٹھ جائیں وہ ہمیشہ کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اس دنیا کو خدا نے مقابلے (competition) کی بنیاد پر بنایا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ ہر ایک کے لیے مشکلات رہیں گی۔ مگر اسی کے ساتھ قرآن میں یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ دنیا میں مشکلات کے ساتھ آسانیاں بھی لازمی طور پر موجود رہیں گی۔
ایسی حالت میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے راستے میں بعض مشکلات ہیں۔ اس کے بجائے زیادہ اہم اور زیادہ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود یہاں آسانیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یعنی ناموافق حالات (disadvantage) کے ساتھ موافق حالات (advantage) بھی یکساں طور پر بلکہ اکثر حالات میں زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔
یہ اصول جس طرح تمام دوسرے ممالک پر منطبق ہوتا ہے اسی طرح وہ انڈیا پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ انڈیا یقینی طور پر اس قانونِ فطرت سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ صرف دیکھنے والوں کے زاویہ نگاہ کا فرق ہے کہ وہ اس کو دیکھ نہیں پاتے۔
مسلم مسئلہ
ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی وہ تحریکیں ہیں جو ایجی ٹیشن کے اصول پر چلائی جاتی ہے۔ یہاں کے مسلمان اپنے لیڈروں کی رہ نمائی میں پچھلے پچاس سال سے احتجاجی سیاست چلا رہے ہیں۔ کبھی مسلم یونیورسٹی کے نام پر، کبھی مسلم پرسنل لاو کے نام پر، کبھی بابری مسجد کے نام پر۔ اس قسم کی احتجاجی تحریکوں نے اس ملک میں ہند ومسلم تعلقات کو بگاڑ دیا ہے۔ دونوں کے درمیان مستقل طور پر تناؤ اور اشتعال کی حالت پیدا کر دی ہے۔ اور جہاں اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جائے وہاں اقلیتی فرقہ کبھی امن اور حفاظت کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ کسی شخص نے مشرقی ملکوں کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے یہاں جلوس
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues