Al-Risala · May 1994 · page 8

فطرت سے انحراف

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۸

فطرت سے انحراف

دلی کی ایک سڑک پر ایک تھری وہیلر ڈرائیور اپنا تھری وہیلر چلاتے ہوئے گزر رہا ہے۔ دوسری طرف سے ایک اور شخص اپنا اسکوٹر (ٹو وہیلر) چلاتے ہوئے آیا۔ اتفاق سے دونوں میں ٹکر ہوگئی۔ دونوں رک گئے۔ اسکوٹر سوار جو بظاہر ایک تاجر تھا، سخت غصہ میں آگیا۔ اس نے تھری وہیلر ڈرائیور کو ڈانٹتے ہوئے کہا : اندھے ہو، تم کو دکھائی نہیں دیتا...... تھری وہیلر ڈرائیور دونوں ہاتھ جوڑ کر سڑک پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا کہ بابوجی، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے اپنی گاڑی اور پہلے موڑنا چاہیے تھی۔ میں نے موڑنے میں دیر کر دی اس لیے ٹکر ہوگئی۔ اب آپ مجھ کو معاف کر دیں۔ آپ جو بھی سزا دینا چاہیں میں اس کو بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔ تھری وہیلر ڈرائیور کے ان الفاظ نے آگ پر پانی کا کام کیا۔ اسکوٹر سوار کا غصہ فوراً ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ تھوڑی دیر چپ ہو کر تھری وہیلر ڈرائیور کو دیکھتا رہا اور اس کے بعد بولا : اچھا جاؤ، اب کبھی ایسا مت کرنا۔ اس واقعہ پر غور کیجئے! اسکوٹر سوار جب غصہ میں تھا تو اس کے منہ سے دوسرے الفاظ نکلے اور جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو وہی آدمی چند منٹ بعد بالکل دوسرے الفاظ بولنے لگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غصہ کے وقت آدمی اپنی حالتِ فطری سے ہٹ گیا تھا، جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ دوبارہ اپنی حالتِ فطری پر آگیا۔ آدمی اپنی حالتِ فطری پر ہو تو اس کے اندر سنجیدگی، اعتراف، اور انصاف پسندی کا جذبہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی وجہ سے وہ اپنی حالتِ فطری سے ہٹ جائے تو اس وقت یہ تمام شریفانہ جذبات دب جاتے ہیں۔ وہ مصنوعی طور پر سرکشی اور انانیت جیسے جذبات کا معمول بن جاتا ہے ۔

جب آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ آپ کے اوپر بگڑ گیا ہے ، وہ آپ کے خلاف فساد برپا کرنا چاہتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی حالتِ فطری سے ہٹ گیا ہے۔ ایسے وقت میں اس آدمی سے ٹکرانا مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ حل یہ ہے کہ اس آدمی کو اس کی حالتِ فطری کی طرف دوبارہ واپس لایا جائے۔ حالتِ فطری پر واپس آتے ہی وہ ایک نارمل انسان بن جائے گا اور پھر آپ کا مسئلہ بھی اپنے آپ حل ہو چکا ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page