سچی ہوشیاری
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۹
سچی ہوشیاری
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی مسجد نبوی میں تھے۔ صحابہ کی ایک تعداد آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا۔ نوجوان نے آپ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا :
قال یا رسول اللہ ای المومنین افضل ۔ قال اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مسلمانوں میں سب سے رسول الله صلى الله عليه وسلم احسنھم اخلاقا بہتر کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کے اخلاق سب ثم قال فای المومنین اکیس ۔ قال اکثرھم سے بہتر ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ مسلمانوں میں سب سے للموت ذكراً واکثرھم استعدادالہ زیادہ سمجھ دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو قبل ان ينزل به ۔ اولئك هم الاكياس سب سے زیادہ موت کو یاد کرے اور جو موت آنے سے پہلے سب سے زیادہ اس کی تیاری کرے ۔ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سمجھ دار ہیں ۔
جس شخص کا ایمان جتنا زیادہ گہرا ہو گا اتنا ہی زیادہ اس کا اخلاق اچھا ہو گا۔ جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے ۔ وہ بندوں کے ساتھ سلوک کرنے میں انصاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا بن جاتا ہے ۔ اور اسی کا دوسرا نام حسن اخلاق ہے ۔
موت کو یاد رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دنیا کو عارضی اور آخرت کو ابدی سمجھتا ہے ۔ وہ موجودہ دنیا کی چیزوں میں الجھ کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ آنے والی زندگی کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ پھر اس سے زیادہ عقل مند کون ہو سکتا ہے جو ابدی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے ۔
موت کی یاد کا یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے عمل کے بارے میں ہوشیار ہو جاتا ہے۔ یہ مزاج اس کے اندر سے بے اعترافی ، ناانصافی ، فریب ، استغلال اور نمود و نمائش کے جذبات ختم کر دیتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کے غلط اور مصنوعی جذبات ختم ہو جائیں ، اس کا ہر قدم صحیح سمت میں اٹھے گا ، وہ ایک بے پناہ انسان بن جائے گا ۔