اصحاب رسول
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
اصحاب رسول
اسماعیل السدی کہتے ہیں کہ میں نے ابواراکه تابعی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علیؓ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر جب انھوں نے اپنے چہرہ کو داہنی طرف پھیرا تو وہ اس طرح ٹھہرے گویا کہ ان کے اوپر شدید غم ہو۔ وہ اسی طرح رہے یہاں تک کہ جب دھوپ مسجد کی دیوار پر ایک نیزہ کے برابر آگئی تو انھوں نے اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے اپنے ہاتھ کو پلٹتے ہوئے کہا۔ خدا کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا ہے۔ آج میں کوئی بھی چیز ان کے مشابہ نہیں دیکھتا۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود ہوتے تھے۔ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے جیسا نشان ہوتا۔ وہ اپنی رات کو سجدہ اور قیام میں گزارتے۔ ان کی آنکھیں آنسو بہاتیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے۔ خدا کی قسم، آج کے لوگوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی رات غفلت میں گزاری۔
مذکورہ روایت کے مطابق، خلیفہ چہارم علی رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول کی جو صفات بتائیں، ان میں سے ایک صفت یہ تھی کہ جب وہ صبح کرتے تو وہ اللہ کو یاد کرتے، اس وقت وہ اس طرح ہلتے جس طرح درخت ہوا چلنے کے وقت ہلتا ہے (فاذا اصبحوا فذكروا الله مادوا کما یمید الشجر في يوم الريح، البداية والنهاية ٦/٨ حضرت علیؓ نے اپنے اس فقرہ میں اس حالت کو بیان کیا ہے جس کو جسم پر تھرتھری پیدا ہونا کہتے ہیں۔ اللہ سے ڈرنے والا انسان جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے جسم کے اوپر مخصوص قسم کی تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ تھرتھراہٹ کبھی صرف جسم کی اوپری جلد پر کپکپی طاری کر دیتی ہے، اور کبھی اتنی تیز ہوتی ہے کہ آدمی کا پورا جسم لرزاٹھتا ہے۔ اللہ کی یاد اصلاً آدمی کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ مگر جب یہ یاد زیادہ گہری ہو تو وہ آدمی کی روح کو اس طرح پگھلاتی ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اس کے جسم پر بجلی کی لہرسی دوڑ جاتی ہے۔ اس کے پورے وجود پر ذکر خداوندی کا بھونچال طاری ہو جاتا ہے۔ اس کا جسم اسی طرح ہل جاتا ہے جس طرح تیز ہوا کسی درخت کو ہلا دے۔