زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸
جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔
جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت رد عمل ہوا اور ان کے ذہن میں یہ خیال جوڑا پکڑ گیا کہ چوں کہ علماء اور قراء نے اختتامِ تلاوت پر صدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے، لہٰذا اس تواترِ عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ چنانچہ انھوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمتِ قرآن (نومبر، دسمبر ۱۹۸۹) میں دو قسطوں میں چھپا۔
اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی رد و کد ہوئی، یہاں تک کہ حکمتِ قرآن (مارچ ۱۹۹۰) میں مدیرِ محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دورِ اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوتِ قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتامِ تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔ وفاق پبلی کیشنز لاہور نے ۱۰۰ صفحہ کی ایک کتاب چھاپی ہے۔ اس کا نام نفاذِ اسلام : منزل بہ منزل ہے۔ روز نامہ وفاق کے پینل نے جناب مصطفیٰ صادق کی قیادت میں سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق سے کئی انٹرویو لئے تھے۔ ان سب کو کتاب کی صورت میں جمع کر دیا گیا ہے۔ اس کے صفحہ ۸۶ پر سابق صدر پاکستان کا ایک جواب نقل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، انھوں نے ایک سوال کے جواب میں جلسہ جلوس کی سیاست کو بے مقصد آگ بھر کا نا بتا یا۔ انھوں نے کہا:
میرے اپنے نقطہ نظر کے مطابق، جلسہ اور جلوس وقت کا ضیاع ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے عوام کی تربیت پر غلط اثرات پڑتے ہیں۔ اگر (جلسہ جلوس) کا یہ طریق کار اختیار کر لیا گیا تو اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔ میں اس کے لئے موزوں الفاظ استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ کسی نے کہا ہے: Political activities of procession and public meeting have generated more heat than light.