Al-Risala · May 1994 · page 19

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

اس پر گفتگو کے دوران میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس معاملہ میں ٹھیک یہی حالت ہندوستان کی بھی ہے۔ یہاں بھی جلوس اور عوامی جلسوں کی صورت میں جو سیاسی سرگرمیاں جاری کی جاتی ہیں انھوں نے روشنی سے زیادہ گرمی پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ مثلاً سلمان رشدی کی کتاب کے مسئلہ پر بمبئی میں جلوس نکالا گیا اس نے ماحول میں صرف گرمی پیدا کی اور مسلمانوں کی قیمتی جانیں بے فائدہ طور پر ضائع ہوئیں۔ اسی طرح بابری مسجد کے مسئلہ پر جلسہ اور جلوس کے جو ہنگامے جاری کئے گئے اس نے بھی مسلمانوں کو کوئی روشنی نہیں دی۔ البتہ ماحول کے اندر جو گرمی پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو مختلف قسم کے اندوہناک نقصانات اٹھانے پڑے۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے پندرہ روزہ امپیکٹ (لندن) کو ایک انٹرویو دیا تھا۔ یہ انگریزی ہفت روزہ پاکستان کے اسلام پسند نوجوان نکالتے ہیں۔ انٹرویو زیادہ تر پاکستان میں اسلام نظام اور جمہوریت سے متعلق تھا۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے : Q: You are trying to reform democracy. Is it not necessary to reform the administrative structure as well so that it is able to run the Islamic system you are introducing? A: I wish I can'do that, but I don't think we can. I am sorry to say that if I tell... to start growing a beard, he will be the first to say no, because I myself do not keep a beard. (Radiance Weekly, April 12, 1981)

سوال : آپ پاکستان میں جمہوریت کی اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ انتظامی ڈھانچہ کی بھی اصلاح کی جائے تاکہ وہ اس اسلامی نظام کو چلانے کے قابل ہو سکے جس کو آپ ملک میں لا رہے ہیں۔

جواب : میری خواہش ہے کہ میں ایسا کر سکتا۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اگر میں انتظامی کارکنوں سے کہوں کہ تم داڑھی رکھو تو وہ سب سے پہلے نہیں کر دے گا۔ کیوں کہ میں خود داڑھی نہیں رکھتا۔

اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں کامل اقتدار ملا۔ وہ ساڑھے گیارہ سال تک پاکستان کے مطلق حکمران بنے رہے۔ اس کے باوجود ان

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page