زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ طاقت کے زور پر مکمل اسلامی نظام نافذ کر دیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ آج تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں تاکہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی نظام کو نافذ کریں، وہ یا تو انتہائی نادان ہیں یا انتہائی غیر سنجیدہ۔ ان دو کے سوا کوئی اور خانہ نہیں جس میں ان کو جگہ دی جاسکے۔
۱۹۹۱ کے الیکشن کے بعد انڈیا کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں جو ممبران منتخب ہو کر آئے ہیں ان میں مسلم ممبروں کی تعداد ہمیشہ سے بہت کم ہے۔ اس پر یہاں کے مسلم حلقوں میں طرح طرح کے مایوسانہ تبصرے کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہلی کے روزنامہ قومی آواز (۹ ستمبر ۱۹۹۱) میں مسٹر دیش راج گوئل کے قلم سے ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : ”ملک کا سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ“۔ مضمون نگار لکھتے ہیں :
سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران کی زیادہ تعداد ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو بھارت میں انھیں درپیش ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں تو مسلمان ہی بھاری اکثریت میں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ مسلم ممبران پاکستان کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوگئے؟“ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ہندو لیڈر کے یہ الفاظ مسلمانوں کے لئے چشم کشا حیثیت رکھتے ہیں مسلمانوں کا مسئلہ مسلم ممبران حل نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے مسائل حل ہوچکے ہوتے۔ مگر وہاں بھارت سے بھی زیادہ سنگین مسائل موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لئے ہمیں خود مسلم قوم کو تیار کرنا چاہئے۔ مسلم قوم میں جب تک تعمیری انداز میں فکری بیداری نہ لائی جائے، کوئی بھی دوسری تدبیر ان کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں، خواہ بھارت کا معاملہ ہو یا پاکستان اور بنگلہ دیش کا معاملہ۔
اگست ۱۹۹۱ کے آخری ہفتہ میں جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے ”پچاسویں یوم تاسیس“ کی تقریبات لاہور میں منعقد کیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے پر جوش تقریریں کیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، ان تقریروں میں بڑی دلچسپ باتیں کہی گئیں جماعت اسلامی پاکستان اپنے آٹھ ممبران اسمبلی کے ساتھ ”اسلامی جمہوری اتحاد“ کی حکومت میں شامل ہے۔ مگر جماعت کے