Long arms of Islam reach Huston.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
لئے پسند کرتا ہے۔ گویا کہ وہ لوگ ”۵۰ فیصد“ دین خداوندی کے قریب آچکے ہیں۔ اب صرف ”پچاس فیصد“ مزید انھیں خدا کے دین کے قریب لانا ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے خدا کے دین میں داخل ہو جائیں گے کہ " ہم تو پہلے ہی سے اس پر ایمان لائے ہوئے تھے “۔ جناب محمد اسلم اپلٰی اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اسی کے ساتھ نہایت سنجیدہ ہیں۔ وہ ایک کالج میں استاد ہیں۔ وہ اس کے سخت خلاف ہیں کہ تعلیم گاہوں میں سیاست کو داخل کیا جائے۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر ہماری تعلیم گاہوں کے طلبہ اور معلم سیاسی مزاج کے ہو جائیں تو اس کے بعد ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔
We need not any enemy when teachers and the taught have been politicized. مجھے ان لوگوں کے نقطہ نظر سے تو سخت اختلاف ہے جنھوں نے جدید درس گاہوں کو "قتل گاہ“ بتایا۔ مگر جناب اسلم صاحب کی مذکورہ رائے سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے۔ میری قطعی رائے ہے کہ تعلیم گاہوں سے یونین کا نظام اور سیاسی سرگرمیوں کو مطلق طور پر بند کر دینا چاہئے۔ طالب علمی کے زمانہ میں طالب علم کو صرف پڑھنا چاہئے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایک مجلس میں میں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات اور دین کے بنیادی تقاضوں پر گفتگو کی، گفت گو ختم ہوئی تو ایک صاحب نے کہا کہ " اور بابری مسجد کا مسئلہ “ میں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ہے جیسا لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ مسجد کو سیاست بنانے کا مسئلہ ہے۔ جہاں کہیں بھی آپ کسی دینی معاملہ کو سیاسی استحصال (political exploitation) کا ذریعہ بنائیں گے تو وہی ہوگا جو بابری مسجد کے ساتھ ہوا۔
آپ کے لئے اس کی ایک قریبی مثال لاہور کی مسجد شہید گنج ہے۔ اس مسجد کو ۱۹۳۵ میں سیاسی استحصال کا ذریعہ بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے ۴۵ سال بعد بھی مسجد شہید گنج تعمیر نہ ہوسکی۔ اسی سے آپ اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ یہاں کے پر جوش لیڈروں نے پیدا کیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ