الرساله کیسٹ ۔ ارکانِ اسلام سیٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷
خبر نامہ اسلامی مرکز ۹۳
ہندوستانی اندولن کی طرف سے ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان تھا : (Movement for National resurgence) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ملک کی سیاسی اور سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اہل ملک کو تعلیم یافتہ اور باشعور بنایا جائے۔
پانچ جنوری کے سب ایڈیٹر مسٹر ایم اے بھرت نے ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق مسلمانوں ہتد کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ڈبل اسٹینڈرڈ بننا اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں یہ ہے کہ آدمی جو کہے وہی کرے اور جو کرتا ہے وہی بولے۔
مسٹر لت کمار شرما نے ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو آل انڈیا ریڈیو کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہوم اکتوبر کی صبح کو آکاش وانی میڈیم ویو) سے نشر کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ ہمارا ایک ہی مشن ہے جس کو ہم ۲۵ سال سے چلا رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہ زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے۔ کامیابی اس کو ملتی ہے جو مشکلات کو نظر انداز کرے اور امکانات کو استعمال کرے ۔
صدر اسلامی مرکز نے ۷ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو جگت گرو سوامی سروپانند جی سرسوتی، شنکر اچاریہ آف دوار کا پیٹھ سے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ ان نے بابری مسجد اور دوسرے ملکی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے صدر اسلامی مرکز کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ جس طرح چاروں شنکر اچاریہ کی میٹنگ سرنگہری میں ہوئی تھی ، اسی طرح مخصوص علماء کی ایک میٹنگ بلائی جائے تاکہ اس مسئلہ پر غور ہوسکے۔
انگریزی هفت روزه آرگنائزر کے ایڈیٹر سیشادری چاری نے ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز سے طویل صحافتی ملاقات کی۔ ڈاکٹر ہیض شرما بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ مسلمان ہند و اور ملک کے بہت سے مسائل زیر بحث آئے۔