دو دنیائیں
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۵۹
دو دنیائیں
سر آرتھر ایڈنگٹن (Arthur S. Eddington) مشہور انگریز سائنس داں ہے۔ وہ ۱۸۸۲ء میں پیدا ہوا، اور ۱۹۴۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہے ۔
طبیعاتی دنیا کی نوعیت :
The Nature of the Physical World (1928)
ایڈنگٹن نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ میں اپنی کرسی پر جس میز کے سامنے بیٹھا ہوں وہ دو میز (two tables) ہے۔ ایک میز وہ جو دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری میز وہ جو دکھائی نہیں دیتی۔ دکھائی دینے والی میز بظاہر ٹھوس ہے۔ مگر دوسری میز دکھائی نہیں دیتی، اس میں بے شمار غیر مرئی الیکٹران ہر لمحہ حرکت کر رہے ہیں۔ یہی حال پوری دنیا کا ہے۔ اس دنیا کا ایک ظاہر ہے اور دوسرا اس کا باطن ہے۔ عالم ظاہر کو ہم دنیا کہتے ہیں، اور عالم باطن کا نام آخرت ہے۔ موت عالم ظاہر سے نکل کر عالم باطن میں داخل ہونے کا نام ہے۔ موجودہ ظاہری دنیا آدمی کو دکھائی دیتی ہے، مگر دوسری ، اس کے اندر چھپی ہوئی دنیا آدمی کو دکھائی نہیں دیتی۔ اس بنا پر انسان موجودہ دنیا کو حقیقی جانتا ہے، اور دوسری دنیا کو خیالی سمجھتا ہے۔ حتی کہ جو لوگ آخرت کا عقیدہ رکھتے ہیں، وہ بھی اس کو بس دور کے ایک عقیدہ کے طور پر مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کے باوجود وہ ان کی عملی اور حقیقی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ یہی انسان کی سب سے بڑی غفلت ہے۔ انسان وقتی دنیا میں مشغول ہو کر مستقل دنیا کو بھلا بیٹھا ہے۔ وہ عارضی دنیا میں کھویا ہوا ہے اور ابدی دنیا کو غیر اہم چیز کی طرح چھوڑے ہوئے ہے۔ وہ اپنے آج کی خاطر اپنے کل کو کھو رہا ہے۔ موت کے دن جب آدمی اس دنیا سے نکل کر دوسری دنیا میں داخل ہو گا تو یہ اس کے لیے گویا پردہ ہٹنے کا دن ہوگا۔ اس دن وہ اپنی غفلت پر افسوس کرے گا۔ مگر اس دن اس کا افسوس کرنا کچھ کام نہ آئے گا۔
سائنسداں اپنی دو میزوں کو اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے، اس کے بعد ہی وہ سائنسداں بنتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی آج کی زندگی میں دو دنیاؤں کو دریافت کرلے وہی صاحب معرفت ہے اور وہی خدا کی توفیق سے اگلے مرحلہ حیات میں کامیاب ہو گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues