مفلس کون
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۶۰
مفلس کون
ایک بزرگ ایک بستی میں رہتے تھے۔ اس بستی میں غیر قوم کا ایک آدمی آیا۔ بستی والوں نے اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا۔ جب بات بڑھی تو بستی والوں نے اس کو اپنے لیے قومی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ سب نے مل کر یہ طے کیا کہ اس معاملہ میں اپنے ظلم کو چھپالیں ۔ اب ہر ایک نے اصل قصہ کو بدل کر اس طرح بیان کرنا شروع کیا جس میں سارا قصور صرف غیر قوم کے آدمی کا ثابت ہو ۔ بستی والے اس پورے معاملہ میں بالکل معصوم اور بے قصور نظر آئیں ۔
اس معاملہ میں مذکورہ بزرگ سے پوچھا گیا تو انھوں نے واقعہ کی اصل حقیقت بتادی۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سارا قصور بستی والوں کا ہے ، اور غیر قوم کا آدمی اس معاملہ میں مظلوم کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس بستی کے لوگ بزرگ موصوف پر خفا ہو گئے ۔ اس سے پہلے مذکورہ بزرگ بستی کے اندر نہایت محترم حیثیت رکھتے تھے ۔ ہر شخص ان کی عزت کرتا تھا ۔ مگر اب ہر ایک نے ان کو برا کہنا شروع کر دیا۔ ان کو حقیر کیا گیا۔ ان پر جھوٹے الزام لگائے گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے یہ بہتان بھی لگایا کہ بزرگ نے غیر قوم سے پیسہ لے لیا ہے ، اس لیے وہ ان کی طرفداری کر رہے ہیں۔ وغیرہ۔ بزرگ کے خلاف ساری بستی میں اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے جاری تھے۔ لیکن بزرگ نے کبھی اس کا جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے معمول کے کاموں میں لگے رہے۔ آخر ایک روز بستی کا ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ آپ کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور آپ چپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی جواب نہیں دیتے۔ کیا آپ کو اپنی بدنامی پر کوئی پریشانی نہیں۔
بزرگ نے جواب دیا کہ مجھ کو پریشانی کیوں ہو۔ میں تو بالکل مطمئن ہوں۔ کیوں کہ یہ لوگ تو ایسا کر کے میرے گناہوں کو بانٹ رہے ہیں۔ وہ میرے گناہوں کا بوجھ مجھ سے اتار کر اس کو اپنے اوپر لے رہے ہیں۔ وہ مجھ کو اس قابل بنا رہے ہیں کہ میں ہلکا ہو کر آخرت کی دنیا میں داخل ہوں۔ اس کے بعد بزرگ نے یہ حدیث سنائی :
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues