مفلس کون
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۶۱
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قال: "أَتدرُونَ ما المفلسُ؟ " قالوا: المفلسُ فِينَا مَن لا درهمَ لَهُ ولا مَتاعَ - فقال : "إِنَّ المفلسَ مِن أُمَّتِي مَن يَأْتِي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، و يأتي قد شَتَمَ هذا ، وقذفَ هذا ، وأكلَ مالَ هذا ، وسَفَكَ دَمَ هذا ، وضَرَبَ هذا ، فيُعطى هذا مِن حَسَناتِهِ ، وهذا مِن حَسَناتِهِ ، فان فَنِيَتْ حَسَناتُهُ قبل أنْ يُقضى ما عليهِ أخِذَ مِن خطاياهم فطرحت عليه ثم طُرح في النار" - (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان ۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت میں نماز اور روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے اور اسی کے ساتھ اس نے کسی کو برا کہا ہو اور کسی پر الزام لگایا ہو اور کسی کا مال کھایا ہو اور کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو ۔ پھر اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں ۔ اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور حساب برابر نہ ہوا ہو تو مظلوموں کی گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے اور پھر اس کو آگ میں پھینک دیا جائے ۔
یہ حدیث ایک طرف ان لوگوں کے لیے نہایت سخت ڈراوا ہے جو دوسرے انسانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ جو دوسروں کے خلاف غصب، بہتان، الزام تراشی جیسے جرائم میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر ان کے اعمال نامہ میں کوئی نیکی ہو تو آخرت کے دن وہ نیکی ان کے کام آنے والی نہیں۔ اور اگر ان کے پاس نیکی نہ ہو تو ان کا انجام یہ ہونے والا ہے کہ اپنے گناہوں کے ساتھ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ان کے اوپر ڈال دیا جائے۔
دوسری طرف اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے تسکین کا سامان ہے جو مظلوم ہیں۔ جن کو ناحق ستایا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں یہ خوش قسمتی ملنے والی ہے کہ ان کے گناہوں کا بوجھ ان کے ظالموں پر ڈال دیا جائے اور وہ ہلکے پھلکے ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں ۔ یہ انجام ان کے لیے اس وقت ہے جب کہ انھوں نے اپنی مظلومیت پر اللہ کی خاطر صبر کر لیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues