Al-Risala · June 1994 · page 62

جوازِ چھین لیجئے

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۶۲

جوازِ چھین لیجئے

ہندوستان میں جنگِ آزادی کے دو دور ہیں۔ ایک ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۲۰ء تک۔ دوسرا ۱۹۲۰ء سے ۱۹۴۷ء تک ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ پہلے دور میں انگریزی حکومت نے آزادی کی مانگ کرنے والوں پر وحشیانہ مظالم کیے۔ مگر یہی انگریز ۱۹۲۰ء کے بعد وحشیانہ مظالم کرنے سے رک گئے ۔ اس کا سبب کیا ہے ۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ پہلے دور میں آزادی کی تحریک چلانے والے اپنی تحریک کو تشدد کے طریقہ پر چلا رہے تھے ۔ مگر ۱۹۲۰ء سے اس تحریک کے قائد مہاتما گاندھی بن گئے ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ آزادی کی تحریک کو ہم عدم تشدد کے اصول پر چلائیں گے ۔ مہاتما گاندھی نے جب تشدد کیا تو اس کے ساتھ ہی انگریزی حکومت کا تشدد بھی ختم ہو گیا ۔ کیوں کہ تشدد کو ترک کرنے کے لیے ہمیشہ اس کا جواز (justification) درکار ہوتا ہے ۔ پچھلے لوگ اپنے تشدد سے انگریز کو بھی تشدد کا جواز دے رہے تھے ۔ جب آزادی کی مانگ کرنے والوں نے تشدد کو چھوڑا تو انھوں نے عین اسی وقت انگریز سے بھی اپنے خلاف تشدد کا جواز چھین لیا ۔ چنانچہ مہاتما گاندھی نے جب ایسا کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے برٹش سیکریٹریٹ کو تار دیا کہ براہِ کرم بذریعہ تار بتائیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح مارا جائے :

Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد کا جو مسئلہ ہے، اس کے حل کے لیے کچھ لوگ دفاع کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ بالکل الٹا مشورہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دفاع اس مسئلہ کو صرف بڑھانے والا ہے اور کسی بھی درجہ میں اس مسئلہ کا حل نہیں۔ اس مسئلہ کا ایک ہی یقینی حل ہے۔ وہ یہ کہ ظالم سے ظلم کا جواز چھین لیا جائے ۔ ایک فریق جب سازش کے تحت اشتعال انگیزی کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ فریقِ ثانی اس سے بھڑک اٹھے۔ وہ مشتعل ہو کر کوئی جوابی کارروائی کرے۔ ایسے موقع پر جوابی کارروائی کرنا ظالم کو ظلم کا جواز فراہم کرنا ہے۔ اس وقت آپ تحمل سے کام لیجئے ۔ آپ جوابی کارروائی نہ کیجئے ۔ اس کے بعد آپ ظالم سے ظلم کا جواز چھین لیں گے ۔ اور ظالم سے جب ظلم کا جواز چھین لیا جائے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہاتھ میں بندوق رکھتے ہوئے بھی وہ آپ پر فائر نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page