Al-Risala · June 1994 · page 20

653 embrace Islam in UAE

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰

مثال کے طور پر اسی مہینہ میں الدعوه (ریاض) کے شمارہ ۱۲ اگست ۱۹۹۳ میں ایک خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے کہ ۹۰۰ شخص يعتنقون الاسلام۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چند مہینے میں جنوبی افریقہ میں تقریباً نو سو آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے چار عیسٰی پادری ہیں۔ اسی طرح اسی مہینہ میں العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ ۱۶- ۲۲ اگست ۱۹۹۳ کے انگریزی حصہ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی یہ ہے :

653 embrace Islam in UAE

اس سرخی کے تحت چھپنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۱۴۱۴ھ کے ایک سال کے دوران صرف عرب امارات میں بیرونی ملکوں کے جو لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد ۶۵۳ ہے۔ یہ دونوں خبریں صرف بطور مثال نقل کی گئی ہیں۔ ورنہ اس طرح کے دعوتی واقعات ہر روز دنیا کے ہر حصہ میں تقریباً تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

اسلامی دعوت کی اہمیت نظری طور پر بھی مسلم ہے اور عملی تجربہ میں بھی اس کی افادیت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ دعوت کو باقاعدہ ملی پروگرام قرار دے کر اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند عمل شروع کر دیا جائے۔

دعوتی طریق کار کی کامیابی جزئی طور پر آج بھی ظاہر ہو رہی ہے، جب کہ ابھی دعوت کا کام منظم طور پر اور قومی فیصلہ کے تحت انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سو سال میں بے شمار سیاسی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اس سے ابھی تک کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ جب کہ اسی مدت میں دعوت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کر کے انہیں اسلام کے دائرہ میں داخل کیا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ واحد غیر محرف مذہب ہے۔ ہر قسم کی علمی صداقتیں اس کے حق میں جمع ہو چکی ہیں۔ ان چیزوں نے اسلام کو اپنی ذات میں ایک مؤثر طاقت بنا دیا ہے۔ چنانچہ ہر ملک میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ آخری بات قرآن سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے مسائل و مشکلات کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ان قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام کریں جن کی طرف سے یہ مسائل اور مشکلات پیش

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page