Al-Risala · June 1994 · page 21

653 embrace Islam in UAE

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱

آرہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تحدیات اقوام کا مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر دعوت اقوام ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت ایک فیصلہ کن رہنما کی حیثیت رکھتی ہے :

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب رَبِّكَ ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ، کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو، اور اگر تم وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔

(المائدہ ، ۶۷)

قرآن کی یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ عصمت من الناس کاراز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ امت محمدی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ جب وہ قوموں کے اوپر دعوت کا کام کرے تو وہ ان کے مظالم سے پوری طرح محفوظ رہے۔

جب قرآن میں یہ واضح رہنمائی موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ عصر حاضر کے مسلمان مشکلات و مسائل کا شکار ہونے کے باوجود، دعوت الی اللہ کی مخصوص تدبیر کے لیے متحرک نہ ہو سکے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے صبر نہ کرنا۔ صبر دعوت الی اللہ کی واحد لازمی قیمت ہے۔ جو لوگ صبر کی قیمت ادا نہ کر سکیں وہ دعوت الی اللہ کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے :

وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے اس پر ہم صبری کریں گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر (ابراہیم ۱۲)

بھروسہ کرنا چاہیے۔

یہ بات پیغمبروں نے اپنی مخاطب قوموں سے اس وقت کہی جب کی ان کی قوم ان کی مخالف ہوگئی اور ان پر زیادتیاں کرنے لگی۔ یہ زیادتی اور اذیت دیگر اقوام کی طرف سے ہمیشہ داعی حق کو پیش آتی ہے۔ مگر داعی کو ان تمام زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی مثبت نفسیات بھنگ نہ ہونے پائے، تاکہ وہ مخاطبین کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے ان کے اوپر دعوت کے عمل کو جاری رکھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page