653 embrace Islam in UAE
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
اس آیت میں تو کل سے مراد اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر یقین کرنا ہے۔ یعنی داعی پوری طرح اس بات پر متوکل ہو جائے کہ وہ مخاطبین کے ظلم کے خلاف براہ راست کارروائی نہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا جو کام ان کے اوپر انجام دے گا۔ وہ پیغام الہی کی پیغام رسانی کے ساتھ اس کے قومی مسائل کا بھی یقینی حل بن جائے گا۔
آج اہل اسلام کو اسی تو کل علی اللہ کا ثبوت دینا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں اس تو کل کا ثبوت دے دیں تو اس کے بعد ان کے تمام مسائل اس طرح حل ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
ہندوستانی مسلمان از: ــــــــ مولانا وحید الدین خاں زندگی میں ہمیشہ مسائل بھی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ مواقع اور امکانات بھی۔ یہ صحیح رہنمائی نہیں ہے کہ مسائل کو ڈھونڈ کر نکالا جائے اور ان کو بتا کر لوگوں کو مایوسی اور پست حوصلگی میں مبتلا کیا جائے۔ سچی رہنمائی یہ ہے کہ مواقع کی نشاندہی کی جائے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہو۔ پیش نظر کتاب میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ٹھوس حقائق کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ہوش مندی سے کام لیا جائے تو اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہ تمام امکانات پوری طرح موجود ہیں جو کسی بھی دوسرے مقام پر ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ صفحات ۲۱۶ قیمت ۴۰ روپیہ یہ مقالہ الملتقى الاسلامى الاول لدول آسیا (کولمبو) میں ۲۷ اگست ۱۹۹۲ کو پڑھا گیا۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کی وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية کے تحت کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues