ایک امکان
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳
ایک امکان
انڈیا ٹوڈے (نئی دہلی) نے اپنے شمارہ ۱۵ جنوری ۱۹۹۲ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر مسٹر مرلی منوہر جوشی کا انٹرویو چھاپا تھا۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کو ہندو بتایا تھا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مسٹر ایس ایس نیگی (دہرہ دون) نے انڈیا ٹوڈے (۲۹ فروری ۱۹۹۲) میں لکھا ہے کہ مسٹر جوشی کہتے ہیں مسلمان ہندو ہیں کیوں کہ وہ ہندوستان میں رہتے ہیں۔ اور انڈین ہندوؤں کے لیے انگریزی لفظ ہے۔ لیکن اگر ہندو کا لفظ قومیت سے تعلق رکھتا ہے تو آخر اس کو مذہب کیوں کہا جائے : 'Murli Manohar Joshi says that Muslims are Hindus because they live in Hindustan. And Indian is the English word for Hindus. But then if the word Hindu refers to a nationality, why call it a religion at all? (S.S. Negi) یہ جواب نہایت صحیح ہے۔ نیز یہ کہ یہ فرقہ پرست ہندو کی بات کا جواب خود ہندو کی طرف سے ہے اس لیے اس میں جو تاثیر ہے وہ کسی مسلمان کے جواب میں نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوؤں میں وہ لوگ بہت چھوٹی اقلیت ہیں جو فرقہ پرستانہ انداز کی باتیں کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی بہت بڑی اکثریت اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ اور اس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔
مثال کے طور پر اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہوا تو سب سے پہلے جس شخص نے اس کے لیے قربانی دی وہ اکشے برہم چاری تھے۔ ہندو تعلیم یافتہ طبقہ نے کثرت سے اس موضوع پر منصفانہ مضامین لکھے۔ انڈین ہسٹری کانگریس کے پروفیسروں نے تقریباً متفقہ طور پر اس معاملے میں فرقہ پرستوں کی مذمت کی۔ ہندوؤں نے ایک سے زیادہ بار "اجودھیا مارچ“ کیا۔ اس سلسلہ کا آخری مارچ وہ تھا جو ۳۰ مارچ ۱۹۹۲ کو مسٹر ملائم سنگھ کی قیادت میں ایک ہزار ہندوؤں نے کیا۔ اگر چہ رام سینی گھاٹ پر لاٹھی چارج کر کے انھیں روک دیا گیا (ہندوستان ٹائمز ۳۱ مارچ ۱۹۹۲) وغیرہ۔
مسلمانوں کے نااہل لیڈر اکثر اس طرح کے مواقع پر غلط اقدام کر کے معاملہ کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اگر یہ مسلم لیڈر چپ رہیں تو خود ہندوؤں میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو ان مسائل میں زیادہ بہتر طور پر ہٹلر ابدل بن جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues