ایک امکان
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹
۱۱ ستمبر کو عشاء کی نماز نظام الدین (دہلی) کی قریش مسجد میں پڑھی تھی۔ ۱۲ ستمبر کو فجر کی نماز میں نے نیویارک (سوئٹزرلینڈ) میں پڑھی۔ جب کہ دونوں مقامات کے درمیان تقریباً ۶۲۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ نیویارک میں جہاز کی لینڈنگ بہت سہل تھی۔ جہاز نہایت سہولت سے رن وے پر اتر کر دوڑنے لگا۔ اتفاق سے اس وقت میں ہیرالڈ ٹریبیون (۱۲ ستمبر) میں امریکہ کی اقتصادی حالت کے بارے میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اقتصادی مشکلات میں مبتلا ہے اور آئندہ اس کو اس سے بھی زیادہ سخت اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ کی سرخی یہ تھی : (Hard landing ahead)
اس کو پڑھ کر اچانک میرا ذہن آخرت کی طرف مڑ گیا۔ میں نے سوچا کہ دنیا میں تو ماہر پائلٹ اور موسم کی موافقت کی بنا پر ” سہل لینڈنگ“ میرے حصہ میں آئی ہے آخرت میں اگر ”ہارڈ لینڈنگ“ ہو تو وہاں کیا چیز ہوگی جو مجھے بچانے والی ثابت ہو۔
پائلٹ سے میں نے پوچھا کہ ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ ایک بے حد تکنیکی بات ہے۔ تاہم آسان لفظوں میں میں کہوں گا کہ ہوائی جہاز کو ہم نہیں اڑاتے۔ بلکہ نیچر اڑاتی ہے۔ ہوائی جہاز کی چڑیا جیسی شیپ، اس کا پنکھا، ہوا کو آگے سے کھینچ کر پیچھے پھینکنا، اس قسم کے کچھ اسباب کو ہم جمع کرتے ہیں۔ اس کے بعد جہاز اپنے آپ اوپر اٹھنے لگتا ہے۔ اور پھر انجن کی حرکت سے آگے کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ اس کی سادہ مثال ایسی ہے جیسے غبارہ بغیر ہوا تو وہ زمین پر پڑا رہے گا۔ لیکن اگر آپ اس میں ہوا بھر دیں تو وہ اپنے آپ ہوا میں اوپر اٹھ جاتا ہے۔ نیویارک میں ایک ایرانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ اتفاق سے اردو جانتا تھا۔ ایران اور افغانستان وغیرہ میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ اس وقت مسلمان ہر طرف محرومی کا شکار ہیں۔ کیوں کہ اسلام کے دشمن ہر جگہ ان کے حقوق سلب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ محرومی کے اس نظریہ نے مسلمانوں سے وہ عظیم چیز چھین لی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر ان کو عطا کی تھی۔ اور وہ ہے دعوت کی طاقت اور داعیانہ منصب۔ داعی کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے پاس ایک بہت بڑی چیز ہے جس کو وہ دوسروں کو دے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues