Hinduism in the modern world
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
ہوئی۔ اسی زمانے میں شارلمین (Charlemagne) نے موجودہ کیتھڈرل تعمیر کرایا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہارون الرشید بغداد کا خلیفہ تھا۔
زیورک کا ایئرپورٹ سوئزرلینڈ کا سب سے زیادہ معروف ایئرپورٹ ہے۔ یہاں سے ستر ملکوں کے ۱۱۰ شہروں کے لئے ڈائرکٹ فلائٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اتصالات کے یہ کیسے عجیب مواقع ہیں جو موجودہ زمانہ میں ہر طرف کھل گئے ہیں اور حق کے داعیوں کو خاموش زبان میں پکار رہے ہیں کہ آو، ان نئے مواقع کو استعمال کرو اور خدا کا کلمہ خدا کے تمام بندوں تک پہنچادو۔ زیورک ایئرپورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر آجکل وہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ وہ اس کانفرنس میں شریک تھے جو جرمنی کی وشو ہندو پریشد کی طرف سے اگست ۱۹۹۲ کے آخر میں فرینکفرٹ کی گوئٹے یونیورسٹی میں منعقد کی گئی۔ واضح ہو کہ گوئٹے (J.W.V. Goethe) نے کالی داس کا جرمن ترجمہ پڑھا تھا اور وہ اس کے خیالات سے متاثر تھا (10/376) اس کانفرنس کی تھیم تھی ــــ ہندوازم جدید دنیا میں:
Hinduism in the modern world
مذکورہ ہندو پروفیسر نے کہا کہ ہندوازم کا خلاصہ وحدت انسانیت (One world family) اور عدم تشدد (Non-violence) ہے مگر یہ تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ وہ مذہب جس میں اتنی وسعت ہے کہ وہ منکر مین مذہب تک کو اپنے دائرہ میں لے لیتا ہے، وہ اس وقت تعصب کے الزام کے مقابلہ میں اپنے دفاع پر مجبور ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہندو مذہب کے بارہ میں جو غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا دفعیہ کریں ، ورنہ بالاخر وہ ہندوستان کی تصویر بگاڑنے والی ثابت ہوں گی:
We want to counter the disinformation now spreading regarding the Hindu religion; otherwise it will ultimately affect the image of India. میں نے کہا کہ اگر آپ ہندوازم کی تصویر کو بگڑنے سے بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اس عمل کو بدلیں جو انڈیا میں وشو ہندو پریشد انجام دے رہی ہے۔ اس قسم کی تقریری کانفرنسوں سے تصویر درست ہونے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues