Hinduism in the modern world
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
عجیب بات ہے کہ خود مسلمان بھی ٹھیک اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مذہب ہر ہو کر جگہ جگہ متشد دانہ عمل کر رہے ہیں اور جب دنیا یہ کہنے لگتی ہے کہ اسلام تشد دکی تعلیم دیتا ہے تو فورا وہ کانفرنس کر کے اعلان کرتے ہیں کہ یہ جس انفاریشن ہے۔ ورنہ ہم تو جس مذہب پر ہیں وہ امن و سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں۔
ہوا میں پرواز کرنے کا تخیل انسان کے اندر کب پیدا ہوا۔ اس کی کوئی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔ تا ہم تقریبا یقینی طور پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پرواز کا پہلا خیال انسان کے اندر اس وقت آیا جب اس نے چڑیا کو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے دیکھا۔
غالباً مچھلی کو دیکھ کر انسان کے اندر پانی میں تیرنے کا خیال آیا اور چڑیوں کو دیکھ کر فضا میں اڑنے کا۔ انسان نے جلد ہی کشتی بنا کر پانی میں تیر نا شروع کر دیا۔ مگر فضا میں اڑنے کا تخیل بہت دیر میں واقعہ بن سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سادہ کشتی بنانے کا کام قدیم دستکاری کے دور میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ہوائی جہاز بنانا صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ اس سے پہلے دنیا میں صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ دوسری کئی چیزوں کی طرح ، ہوائی جہاز کو ترقی دینے میں جنگجو یانہ ذہن کا بڑا حصہ ہے۔ فرانس کا لوئی چہار دہم (Louis XIV) ایک جنگجو بادشاہ تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ ایسی سواری بنائی جا سکتی ہے جو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس نے اس کام کی حوصلہ افزائی کی۔ ١٦٦٠ میں اس نے اس کام کے لئے کچھ لوگوں کو ہر قسم کے وسائل دئے ۔ تاہم ابتدائی نوعیت کی مشینی سواری (Powered flight) غالب ۱۸۶۸ میں سومر سیٹ میں بنائی جا سکی۔ جہازوں کے ماڈل کو دیکھا جائے تو ان میں ایک تدریجی ارتقاء نظر آئے گا۔
۱۲ ستمبر کی صبح کو سوئس ایئر کی فلائٹ کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم بروسیلز میں اتر گئے۔ یہاں کانفرنس کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ ان کے ساتھ ہمارا قافلہ شہر کے لئے روانہ ہوا۔ بروسیلز کی سڑکیں بہت صاف ستھری نظر آئیں۔ مکانات اور دکانیں بھی نہایت آراستہ تھے۔ ہر طرف پھیلا ہوا سبزہ اور خوشگوار موسم مزید اس میں اضافہ کر رہا تھا۔
بروسیلز میں میرا قیام بیلسن ہوٹل (Belson Hotel) کے کمرہ نمبر ۱۳۶ میں تھا۔ پیشہر
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues