Al-Risala · June 1994 · page 12

Minorities in India and the National Mainstream

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲

۱۲ انگریزی اخبار امرت بازار پتریکا کے نمائندہ مسٹر دنیش شرما نے ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع خاص طور پر حضرت بل کا معاملہ تھا۔ ان سے کہا گیا کہ حضرت بل کا ایک مہینے کا محاصرہ اگر چہ ایک المیہ تھا۔ مگر اس المیہ سے ایک بہتر بات نکل آئی۔ وہ یہ کہ کشمیری نوجوانوں کو محسوس ہوا کہ تشدد کاراستہ تباہی کا راستہ ہے۔ یہ ایک مثبت آغاز کی علامت ہے۔

۱۳ دور درشن کی ٹیم ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئی۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو اردو میں اور انگریزی میں ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو میں آج صبح حضرت بل کے بحران کے خاتمہ پر کشمیری نوجوانوں کو اور حکومت کو مبارک باد دی گئی۔ اور یہ امید ظاہر کی گئی کہ اب کشمیر میں امن قائم ہو جائے گا اور وہاں کے لوگ دستور ہند کے تحت اپنی زندگی کی تعمیر پر امن طور پر شروع کر دیں گے۔ ۱۴ مسٹر جواہر لال دویدی علی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ ذیل کے موضوع پر مقالہ تیار کر رہے ہیں ــــ تقسیم کے بعد دہلی کے مسلمانوں کا سیاسیات میں حصہ :

Political participation of Muslims in Delhi since partition. ۱۴ اپریل ۱۹۹۳ کو انھوں نے اس سلسلہ میں صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی ملاقات کی اور موضوع سے متعلق ان کے خیالات قلم بند کئے ۔

۱۵ ترکی کے ایک پروفیسر عبد الحمید بر ایشیق ترکش ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئے۔ وہ تفسیر قرآن کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کی تفسیریں تو ہزاروں کی تعداد میں لکھی گئی ہیں۔ مگر جدید سائنٹفک اسلوب میں قرآن کی تفسیر لکھنے کا کام ابھی باقی ہے۔

۱۶ مسٹر ہلال عاطف (ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی نے ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ کو انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ مدارس عربیہ کے نظام اور کار کردگی کے بارہ میں تھا۔

۱۷ ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر سری نواس لکشمن (ٹیلیفون ۳۶۱۸۹۲۳) نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹائمس آف انڈیا کی بمبئی اور دہلی دونوں اشاعتوں میں چھپا ہے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ ملکی اور ملی مسائل سے تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page