Al-Risala · July 1994 · page 12

دو ہجرتیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲

دو ہجرتیں

۱۹۲۰ء میں مولا نا ابو الکلام آزاد اور مولا نا عبد الباری فرنگی محلی وغیرہ نے ہجرت کا فتویٰ دیا تھا۔ اخبار اہل حدیث امرت سر کے شمارہ ۲۰ جولائی ۱۹۲۰ء میں یہ فتوی ان الفاظ میں چھپا تھا : " تمام دلائل شرعیہ ، حالاتِ حاضرہ ، مصالح ہمہ امت اور مقتضیات ومصالح پر نظر ڈالنے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ اس اعتقاد پر مطمئن ہو گیا ہوں کہ سلمانانِ ہند کے لئے بجز ہجرت کوئی چارہ شرعی نہیں ہے۔ ان تمام مسلمانوں کے لئے جو اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑا اسلامی عمل انجام دینا چاہیں ضروری ہے کہ وہ ہندوستان سے ہجرت کر جائیں "۔

(تحریک خلافت، از قاضی محمد عدیل عباسی، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۹۲ ، صفحہ ۱۳۲) اس فتوے کے مطابق بہت سے مسلمان ہندوستان سے ہجرت کر کے افغانستان گئے۔ یہ سفر ان کے لئے سفر ہجرت کے بجائے سفر بربادی بن گیا۔ بے پناہ تباہی کے بعد کچھ لوگ مرگئے ۔ کچھ لوگ مایوسی اور دل شکستگی کے ساتھ واپس آگئے ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ظفر حسن ایک کی آپ بیتی) مولانا ابو الکلام آزاد اور دوسرے علماءءءء نے ہجرت کا یہ فتویٰ کیوں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ۱۸۵۷ء میں علما نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ ساٹھ سال سے زیادہ مدت کے تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ جہاد یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال تھا کہ اب کیا کیا جائے ۔ ان علما نے سمجھا کہ جہاد کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اب انھیں ہجرت کر کے پڑوس کے مسلم ملک میں چلا جانا چاہئے اور وہاں سے مدد حاصل کر کے اور مزید تیاری کر کے دوبارہ ہندوستان پر حملہ کرنا چاہئے ۔ اس طرح انگریزوں کو یہاں سے نکالنا آسان ہو جائیگا۔ یہ ان علما کی اجتہادی غلطی تھی۔ یہ اجتہادی غلطی ان سے اس لئے ہوئی کہ انہیں "ہجرت" کے لفظ سے ایک ہی قسم کی ہجرت کا علم تھا۔ یعنی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ انھیں ایک اور ہجرت کا پتہ نہیں تھا، صرف اس لئے کہ اس کا نام قدیم کتابوں میں ہجرت کے بجائے حدیبیہ لکھا ہوا ہے۔ ہجرت کے لفظی معنی چھوڑنے کے ہیں۔ یعنی ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو لے لینا۔ یہ ہجرت ایک اہم اسلامی تعلیم ہے۔ مگر ہجرت کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مکانی ہجرت اور دوسرے تدبیری ہجرت۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page