دو ہجرتیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳
مکہ سے مدینہ جانا یہ مکانی ہجرت تھی اور حدیبیہ کا معاہدہ تدبیری ہجرت تھی۔ کیوں کہ اس معاہدہ میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اب تک دونوں فریقوں کے درمیان جو جنگ جاری تھی اس کو بند کر دیا جائے۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہ کرے۔ اس طرح حدیبیہ نے میدان عمل کو بدل دیا۔
گویا کہ صلح حدیبیہ متشددانہ عمل (violent activism) سے غیر متشددانہ عمل (non-violent activism) کی طرف ہجرت تھی۔ اس صلح کے ذریعہ فریق ثانی کو عدم جارحیت کا پابند کر دیا گیا اور اس طرح اہل اسلام کے لئے پر امن دعوت یا غیر متشددانہ عمل کا راستہ کھل گیا۔
عجیب بات ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے علماء کی سمجھ میں یہ دوسری ہجرت نہ آسکی۔ البتہ مہاتما گاندھی نے اس راز کو پالیا جنھوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۲۰ میں جب کہ علماء مسلمانوں کو ہجرت مکانی کی دعوت دے رہے تھے ، عین اسی وقت گاندھی جی نے اہل وطن کو ہجرت تدبیری کا پیغام دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب تک ہم تشدد کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد چلا رہے تھے۔ یہ طریقہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اب ہم کو تشدد کا طریقہ چھوڑ کر عدم تشدد کے طریقہ پر اپنی تحریک کو چلانا چاہئے۔
عدم تشدد کے ہتھیار سے مراد تھا دلیل کا ہتھیار۔ یہ دوسرا ہتھیار ہندوستانیوں کے حق میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ تشدد کے طریقہ میں انگریز ہی حکومت زیادہ طاقت ور ثابت ہو رہی تھی ۔ اور ہندوستانی لوگ اس کے مقابلہ میں کمزور فریق بنے ہوئے تھے۔ مگر جب عدم تشدد کا طریقہ اختیار کیا گیا تو اچانک ہندوستانیوں کا پلہ بھاری ہو گیا۔ کیوں کہ اب مقابلہ ہتھیار کے میدان کے بجائے نظریات کے میدان میں منتقل ہو گیا۔
مشینی انقلاب نے انگریزوں کو زیادہ بہتر ہتھیار دے دئے تھے۔ مگر دلیل اور نظریہ کے میدان میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس دوسرے میدان میں انگریزوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا کہ وہ باہر کے دیش سے آکر کیوں ہندوستان میں حکومت کریں۔ جب کہ ہندوستانی لیڈروں کے پاس یہ مضبوط دلیل تھی کہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں۔ اس لئے دنیا بھر
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues