Al-Risala · July 1994 · page 14

دو ہجرتیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴

کے مسلمہ اصول کے مطابق ہم کو حق ہے کہ ہم اپنے ملک میں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں۔ انگریز کے پاس نظریہ استعمار تھا اور گاندھی کے پاس نظریہ خود اختیاری۔ پہلے کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ واضح طور پر برتر ثابت ہوا۔ اور انگریز کو یہاں سے نکل جانا پڑا۔

یہ ہجرت تدبیری مہاتما گاندھی کی سمجھ میں آئی مگر وہ علماء اسلام کی سمجھ میں نہ آسکی۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۲۰ کے پہلے کے دور میں آزادی ہند کی تحریک میں علماء سیاسی امام کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ مگر ۱۹۲۰ کے بعد کے دور میں اچانک وہ مقتدی بن کر رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ بعد کے دور میں مولانا محمود حسن صاحب سے لے کر مولانا آزاد تک تمام علماء نے مہاتما گاندھی کو اپنا سیاسی قائد تسلیم کر لیا۔

آج دوبارہ یہی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ممسلمانوں کے کچھ نادان دوست مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم کش فسادات سے نجات کا واحد راستہ ہجرت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کرایا جاتا ہے۔ مسلمان اگر ان فسادات میں دفاع کے اصول کے تحت مقابلہ کرتے ہیں تو عددی فرق کی بنا پر مسلمانوں کا دفاع غیر موثر ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کے اصول، ہجرت کے تحت مسلمانوں کو اپنے مقامات سے ہجرت کرنا چاہئے۔ اس سے ان کی مراد داخلی ہجرت ہے۔ یعنی سلمان ملک کے اندر اپنے علیحدہ پاکٹ بنائیں اور منتشر آبادیوں سے نکل کر ان مخصوص علاقوں میں آباد ہو جائیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: "ہندوستانی مسلمانوں کی بے وقعتی کاراز، باوجود ۲۰ کروڑ آبادی کے یہ ہے کہ وہ گاؤں گاؤں اور شہر بہ شہر پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی عددی قوت بڑھانے اور اکثریت میں تبدیل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہجرت کر کے بعض پہلے سے طے شدہ علاقوں میں منتقل ہو جائیں یعنی مسلمان ملک کے اندر ہی نقل مکان کریں۔ جہاں مسلمانوں کا تناسب آبادی کم ہے، ان علاقوں کو غیر محفوظ قرار دے کر محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں (افکار ملی۔ دہلی، مارچ ۱۹۹۴ صفحہ ۶۲) یہ اسی نادانی کا اعادہ ہے جو ۷۵ء سال پہلے کی گئی تھی۔ اس قسم ہجرت بلاشبہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔

یہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page