Al-Risala · July 1994 · page 15

دو ہجرتیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵

کرتے ہیں وہ فکر کے اعتبار سے ابھی تک قبائلی دور میں جی رہے ہیں۔ قبائلی دور میں جب کوئی مقابلہ پیش آتا تھا تو وہ صرف دو فریقوں کے درمیان ہوتا تھا۔ مثلاً قدیم یثرب کی جنگ بعاث اوس اور خزرج کے درمیان تھی۔ مگر آج ہم منظم اسٹیٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ اب یہاں دو لڑنے والے فریقوں کے علاوہ ایک تیسرا فریق بھی ہے ، اور وہ پولیس ہے۔

مذکورہ اندازِ میں سوچنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنا دیں گے تو ہم اس پوزیشن میں ہو جائیں گے کہ " ہند و حملہ آوروں" کا اجتماعی قوت سے دفاع کر سکیں۔ مگر یہ محض خام خیالی ہے۔ کیوں کہ تیسرا فریق (مسلح پولیس) ایسے موقع پر غیر جانب دار نہیں رہ سکتا۔ وہ فوراً آ جائے گا اور کرفیو کا قانون نافذ کر کے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔ اس کے بعد یہ تیسرا فریق وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ کرے گا جس سے بچنے کے لئے مسلم دانشور مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

اسلام کی رو سے وہ اس لئے غلط ہے کہ اسلام میں ہجرت صرف اس وقت ہے جب کہ ہجرت کے سوا کوئی چارہ کار سرے سے ممکن ہی نہ رہا ہو۔ ہندوستان میں ایسی صورت ہرگز پائی نہیں جاتی۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فساد کا بالکل یقینی حل یہ ہے کہ مسلمان اعراض کا اصول اختیار کریں، وہ اشتعال انگیزی کے مواقع پر مشتعل نہ ہوں۔ سیکڑوں کی تعداد میں ایسے تجربات موجود ہیں کہ جب بھی مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا تو فساد نہیں ہوا۔ الرسالہ میں ہم ایسے بہت سے واقعات شائع کر چکے ہیں۔ ایسی حالت میں انتقالِ آبادی کی بات کرنا اصولِ اسلام کی خلاف ورزی ہے نہ کہ اصولِ اسلام کی تعمیل۔

امام بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک صورت کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان صورت کو اختیار فرماتے (ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما)

اس سنت رسول کی روشنی میں دیکھئے تو ہجرت کی مذکورہ تجویز سراسر سنت رسول کے خلاف ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ کا طریقہ انتخاب الیسر (easier option) کا ہے۔ اور یہ نادان لوگ مسلمانوں کو انتخاب اعسر (harder option) کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس معاملہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page