دو ہجرتیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶
اعراض بلاشبہ آسان ہے اور ہجرت اس کے مقابلہ میں بلاشبہ مشکل ۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کے لئے ہمارے سامنے دو راستے ہیں ۔ ایک اعراض کا اور دوسرے ہجرت کا ۔ عقل اور تجربہ دونوں بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کو اعراض کے ذریعہ بخوبی طور پر حل کیا جا سکتا ہے ۔ پھر جو مسئلہ اعراض کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہو ، اس کے لئے ہجرت کی تجویز پیش کرناکس قدر لغو اور کتنا زیادہ غیر اسلامی ہے ۔ موجودہ مسلمانوں کو بلا شبہ ایک ہجرت کرنا ہے ۔ مگر یہ مکانی ہجرت نہیں ہے بلکہ تدبیری ہجرت ہے ۔ ۱۹۴۷ کے بعد سے اب تک مسلمان ، کچھ نا اہل لیڈروں کے مشورہ کے تحت جس اصول پر عمل کر رہے تھے وہ تھا ـــــــــ احتجاج ، دفاع ، مظاہرہ ، ٹکراؤ ۔ اب انہیں چاہئے کہ اس طریقہ کو وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں ۔ اس کے بجائے وہ محبت ، اخلاق ، تحمل ، اعراض اور حکمت کا طریقہ اختیار کریں ۔ یہ ان کے لئے تدبیری ہجرت یا طریق کار میں ہجرت کے ہم معنی ہے ۔ اور اسی میں ان کی یقینی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے ۔
ہجرت وصل کی ضد ہے ۔ اس کا مطلب ہے ترک (چھوڑنا) مثلاً برائی کو چھوڑ کر بھلائی اختیار کرنا ، ہجرت ہے ۔ ایک مقام کو نا موافق پا کر دوسرے مقام کی طرف جانا ہجرت ہے ۔ اسی طرح اجتماعی معاملہ میں ایک تدبیر کو غیر مفید پا کر دوسری تدبیر کو اختیار کرنا بھی ہجرت ہے ۔ یہ آخری ہجرت موجودہ زمانہ میں نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گئی ہے ۔ موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمان ٹکراؤ کو اپنی پالیسی بنائے ہوئے ہیں ۔ اس کو چھوڑ کر انھیں صبر کو اپنی ملی پالیسی بنانا چاہیے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرتے ہوئے وہ مثبت عمل کے میدان میں اپنی کوششوں کو لگادیں ۔ اسی کا نام صبر ہے ، اور اسی صبر میں ان کی ترقی اور کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues