ایک اہم کردار
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷
ایک اہم کردار
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ خندق (۵ھ) کہا جاتا ہے۔ اس میں مخالف قبائل کے ۱۲ ہزار آدمی مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ قرآن میں اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــــ جبکہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے (الاحزاب ۱۰-۱۱) اس نازک وقت میں مدینہ کے ایک شخص نے مسلمانوں کے حق میں نہایت اہم رول ادا کیا تھا۔ اس نے حسن تدبیر کے ذریعہ ہونے والی خونی جنگ کو ٹال دیا تھا۔ اس آدمی کو آجکل کی زبان میں درمیانی (intermediary) شخص کہا جا سکتا ہے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی نعیم بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔ مگر میری قوم میرے اسلام سے ابھی واقف نہیں اس طرح میں اب بھی ان میں معتمد علیہ شخص ہوں، آپ مجھ سے کوئی کام لینا چاہیں تو حکم فرمائیں۔ میں اس کو انجام دوں گا۔
اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعیم بن مسعود پر شبہ کرتے۔ ان کو واپس کر دیتے اور مسلمانوں سے کہتے کہ ان سے دور رہو۔ یہ ہمارے دشمنوں کا ایجنٹ معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بجائے آپ اس کی بات سن کر خوش ہو گئے اور فرمایا کہ بے شک تم ہی ہمارے اندر ایک ایسے آدمی ہو (انما انت فینارجل واحد) سیرۃ ابن ہشام ۳/ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیم بن مسعود کی قدر دانی کی۔ ان کے حق میں دعا کی اور ان کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جنگ کو ٹالنے کے لئے استعمال کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی سنتوں میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ درمیانی آدمی پر بھروسہ کیا جائے۔ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس کو اسلام اور مسلمانوں کے بہترین مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues