ایک اہم کردار
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸
مسلمانوں میں جب تک اسلام کی اعلیٰ اسپرٹ زندہ تھی تو اس سنت پر عمل بھی ہواتا رہا۔ مثلاً بنوامیہ کے زمانہ میں رجاء بن حیٰوۃ اسی قسم کے ایک درمیانی شخص تھے۔ ان کے ذریعہ مسلمانوں کو عمر بن عبدالعزیز جیسا عادل خلیفہ ملا۔ بنوعباس کے زمانہ میں امام ابویوسف اسی قسم کے ایک درمیانی شخص تھے۔ ان کے ذریعہ فقہ اسلامی کی ترقی میں زبردست مدد ملی۔ مغلیہ دور میں مجدد الف ثانی نے یہی درمیانی رول ادا کیا اور اسی باہمی اعتماد کی بنا پر ان کے لئے ممکن ہو کہ وہ دین الہی کے فتنے سے اس وقت کے مسلمانوں کو نجات دلائیں۔ وغیرہ۔
مگر موجودہ زمانہ میں زوال کے نتیجہ میں مسلمانوں میں شکست خوردہ نفسیات پیدا ہوگئی۔ وہ اس قسم کے درمیانی افراد کو غیرضروری طور پر شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ یہ منظر اتنا عام ہے کہ اس کو ساری مسلم دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مثلاً موجودہ زمانہ میں ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے اندر ایک طبقہ پیدا ہوا جس کو جدید تعلیم یافتہ طبقہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی تعلیمی اہلیت کی بنا پر حکومتی نظام میں لئے گئے۔ اور اس طرح انہیں حکمراں طبقہ سے قریب ہونے کا موقع ملا۔ یہ لوگ مسلم عوام اور حکمراں طبقہ کے بیچ میں 'درمیانی گروہ' کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک طرف وہ مسلمان ہونے کی بنا پر مسلمانوں سے جڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف وہ حکمراں طبقہ کا اعتماد حاصل کئے ہوئے تھے۔ مسلمان ایسے لوگوں سے بہت فائدہ حاصل کر سکتے تھے۔ مگر ساری دنیا میں ایسے لوگوں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ ان میں کچھ لوگوں کو دنیا پرست اور منافق قرار دیا گیا اور کچھ لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ بہترین مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے۔
ہندوستان میں بھی یہی غیر مطلوب صورت پیش آئی۔ مثلاً سرسید احمد خاں (۱۸۹۸ء-۱۸۱۷) مسلمانوں اور برطانوی حکمرانوں کے درمیان ایک نہایت قیمتی شخص تھے۔ مگر معاصر مسلمانوں نے ان کو استعمار کا پٹھو کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ جسٹس امیر علی (۱۹۲۸ء-۱۸۴۹) بھی اسی طرح ایک مفید درمیانی شخص تھے۔ مگر معاصر مسلمانوں نے ان پر شبہ کیا اور ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ مولانا آزاد (۱۹۵۸ء-۱۸۸۸) کانگریس کے واسطہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین درمیانی شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر ان کو شو بوائے کہہ کر رد کر دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues