ایک اہم کردار
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹
موجودہ زمانہ کے ہندوستان میں اس طرح کے بہت سے قیمتی افراد تھے جو اپنے حالات کی بنا پر اکثریت اور اقلیت کے درمیان کامیاب طور پر درمیانی شخص کا رول کر سکتے تھے۔ مگر مسلمانوں کی اسی غیر ضروری حساسیت کی بنا پر وہ مسلمانوں کے درمیان اعتماد حاصل نہ کر سکے اور نتیجہ وہ مسلمانوں کے حق میں اپنی ممکن خدمات انجام دینے سے قاصر رہے۔ مثلاً ڈاکٹر سید محمود ، فخرالدین علی احمد، علی اور جنگ، وغیرہ وغیرہ۔
اس سلسلہ کی مزید نامعقول روش وہ ہے جس کو ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان بے بنیاد تفریق کہا جا سکتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں اور انگریزوں کے مابین درمیانی شخص بنے تو ان کو مسلمانوں کے درمیان خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس مولانا حسین احمد مدنی جیسا مخلص عالم مسلمانوں میں غیر مقبول ہو گیا ، کیوں کہ وہ مسلمانوں اور ہندؤوں کے مابین درمیانی شخص بنا تھا۔
یہی غلط روایت آج بھی باقی ہے۔ چنانچہ موجودہ ہندوستان میں ایک مثال مولانا ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) کی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں دوسری مثال مولانا سید اسعد مدنی کی ہے۔ دونوں ایک اعتبار سے درمیانی شخص کا رول ادا کر رہے ہیں۔ مگر مولانا علی میاں مسلمانوں کے درمیان نیک نام ہیں اور مولانا اسعد مدنی مسلمانوں کے درمیان بدنام۔
مولانا علی میاں ایک اعتبار سے گویا ہندوستانی مسلمانوں اور عرب کے درمیان کے آدمی ہیں۔ اور مولانا اسعد مدنی ایک اعتبار سے گویا مسلمانوں اور حکومت ہند کے درمیان کے آدمی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا علی میاں عرب کی خرابیوں پر چشم پوشی کرتے ہیں، جب کہ مولانا اسعد مدنی ایسا نہیں کرتے۔ مثلاً ہندوستان میں بابری مسجد ڈھائی گئی تو مولانا اسعد مدنی نے کھل کر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ دوسری طرف عرب میں بھی متعدد مسجدیں ڈھائی گئیں مگر مولانا علی میاں نے کبھی اس کے خلاف کوئی مذمتی بیان نہیں چھپوایا اور نہ اس کے خلاف کوئی احتجاجی تقریر کی۔ اس کے باوجود مولانا علی میاں مسلمانوں کی گڈ بک پر ہیں اور مولانا اسعد مدنی مسلمانوں کی گڈ بک پر نہیں۔ اس تفوق کا سبب نہ عقل ہے اور نہ اسلام۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک معاملہ میں حساس ہیں اور اسی قسم کے دوسرے معاملہ میں غیر حساس۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues